کرتارپورہ بارڈر کھولنے پر بھارت سے رابطہ نہیں ہوا، ترجمان دفتر خارجہ

کرتارپورہ بارڈر کھولنے پر بھارت سے رابطہ نہیں ہوا، ترجمان دفتر خارجہ
وزیراعظم کی پاک بھارت میچ میں شرکت کے حوالے سے علم نہیں، ڈاکٹر فیصل۔۔۔۔فائل فوٹو

اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل کا کہنا ہےکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کرتار پورہ بارڈر کھولنے پر باضابطہ رابطہ نہیں ہوا۔دفتر خارجہ میں ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر رد عمل میں کہا کہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی بربریت جاری ہے۔ 14 افراد کو مزید قتل کر دیا گیا اور بھارتی فورسز کے نہتے کشمیریوں پر ظلم کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔


وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے حالیہ دورۂ افغانستان پر ترجمان نے کہا کہ وزیر خارجہ کا دورہ مثبت رہا اور جلال آباد قونصل خانہ کھولنے سے متعلق بات چیت ہوئی ہے۔ سیکیورٹی ملنے کے بعد قونصل خانہ کھول دیا جائے گا اور امید ہے کہ سیکیورٹی کی فراہمی کے اقدامات جلد ہو جائیں گے جب کہ پاک افغان مشترکا میکنزم کا اجلاس اکتوبر کے دوسرے ہفتے میں ہو گا۔

پاک چین تعلقات پر ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ چین کے ساتھ ہرموضوع پر ہمیشہ بات کرتے ہیں۔ چینی وزیر خارجہ کے دورے میں مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بھی بات ہوئی۔

ایک سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ کرتار پورہ بارڈر کھولنے پر دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ رابطہ نہیں ہوا۔

ڈاکٹر فیصل نے بتایا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر پاک بھارت وزرائے خارجہ ملاقات کے بارے میں فیصلہ نہیں ہو سکا تاہم ملاقات کے لیے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی سطح پربات چیت جاری ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ وزیراعظم کی پاک بھارت میچ میں شرکت کے حوالے سے علم نہیں۔

وزیراعظم کے دورۂ سعودی عرب پر ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب سے امدادی پیکج کے حوالے سے علم نہیں،اس سے متعلق وزیراعظم کے دورے کے اختتام پر تفصیلات سے آگاہ کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان کی تقریب حلف برداری میں سابق بھارتی کرکٹر اور کامیڈین نوجوت سنگھ سدھو نے شرکت کی تھی اور اس دوران ان کی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے غیر رسمی گفتگو بھی ہوئی تھی جس سے متعلق سدھو کا کہنا تھا کہ جنرل باجوہ نے بابا گرونانک کے جنم دن پر کرتارپورہ کا راستہ کھولنے کا کہا ہے۔