آخری کارڈ، آخری کال

 آخری کارڈ، آخری کال

  پندرہ بیس روز پہلے ہونے والی ایک خفیہ میٹنگ نے سارا بھرم کھول دیا۔ ادھر سے منت سماجت، معافی تلافی کی کوششیں، ریڈ لائن کراس نہ کرنے کی یقین دہانیاں، ادھر سے ایک ناں سب کے جواب میں آخری کارڈ استعمال کرنے کی نوبت آ گئی اور عمران خان نے گوجرانوالہ کے جلسہ میں آخری کال دے دی۔ کہا کہ میں نے پی ٹی آئی کی تمام ڈسٹرکٹ تنظیموں کو تیار رہنے کا حکم دے دیا ہے۔ میری کال کا انتظار کریں۔ باتوں سے مایوسی، حرکات و سکنات سے فرسٹریشن جھلکتی ہے۔ کوئی امید بر نہیں آتی۔ کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ حامیوں کو مطمئن کرنے کی واحد کوشش آخری کال ہے۔ تیس چالیس لاکھ حامی کال پر گھروں سے نکل آئے تو بیڑا پار، کیسے نکلیں گے؟ 25 مئی کو کتنے نکلے تھے جواب نکلیں گے۔ لیکن دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے۔ میٹنگ تین چار منٹوں ہی میں ختم ہو گئی۔ جس کے بعد ڈر اور خوف بڑھ گیا۔ ہر آفر کا جواب منفی میں ملا۔ بیانیہ میں تبدیلی اسی کا نتیجہ ہے عمران خان نے امن کی فاختہ اور زیتوں کی شاخ لہرا دی۔ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف مہم بند کر دی۔ اپنے ٹی وی انٹرویو میں سوچ بچار کے بعد کہا کہ آرمی چیف کی تعیناتی نئی منتخب حکومت کرے۔ انٹرویو کرنے والے دانشور نے جھٹ سے پوچھا آپ کا مطلب ہے موجودہ آرمی چیف کو توسیع دے دی جائے، جواب ملا اس کے بارے میں نہیں سوچا۔ انٹرویو دیکھنے والی آنکھوں اور سننے والے کانوں نے بڑی خبر بنا دی کہ خان صاحب توسیع پر رضا مند ہو گئے فواد چودھری نے بھی اسے توسیع قرار دیا۔ البتہ شیریں مزاری نے اس کی تردید کی خان صاحب چپ رہے تصدیق یا تردید کی ضرورت ہی محسوس نہ کی بات تو سچ تھی مگر بات تھی رسوائی کی۔ شیخ رشید جولائی اگست اور فواد چودھری 10 ستمبر تک حکومت کے خاتمے اور الیکشن کی تاریخوں کے اعلان کی پھلجھڑیاں اڑا رہے تھے  19 ستمبر آ گیا کچھ نہ ہوا نت نئے شوشے چھوڑے جا رہے ہیں وہاں فیصلہ کچھ اور ہی ہو چکا ہے۔ سیلاب کی تباہ کاریاں اندازوں سے زیادہ، بحالی کے لیے بہت سا وقت چاہیے اس وقت تک انتخابات نا ممکن نگران حکومت تقرری یا تعیناتی نہیں کر سکتی چار و ناچار نئے انتخابات کا انتظار کرنا ہو گا جو آئندہ سال اگست سے پہلے نظر نہیں آتے۔ آئین میں نا گہانی صورتحال میں دو سال کے التوا کی اجازت ہے وفاقی حکومت اتنی بھی احمق نہیں کہ مشکل فیصلوں کے نتیجے میں اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو سنبھالے بغیر جھٹ سے الیکشن کرا دے۔ آخری کارڈ یا آخری کال سے حالات خراب ہونے یا خونریزی کے سوا کچھ حاصل نہ ہو گا۔ آخری کال کب دی جائے گی۔ فال نکالی گئی اور بتایا گیا کہ اس کیلئے 23,24,25 ستمبر کی تاریخیں سعد ثابت ہوں گی۔ آگے پیچھے کال دی گئی تو کامیاب نہیں ہو گی۔ ادھر سوشل میڈیا پر شوشے چھوڑنے والوں نے آئندہ 6 ماہ میں الیکشن کی پیش گوئیاں کر دیں۔ سنو گپ شپ، سنو گپ شپ ناؤ میں ندی ڈوب گئی۔ بلی کو سمجھانے آئے چوہے کئی ہزار، بلی نے اک بات نہ مانی روئے زار و زار، شیر اور بکری مل کر بیٹھے گھوڑا گھاس نہ کھائے۔ تینوں اپنی ضد کے پورے کون کسے سمجھائے۔ صوفی تبسم کی بچوں کیلئے نظم موجودہ سیاسی حالات پر صادق آتی ہے۔ سوشل میڈیا پر قبل از وقت انتخابات کے بارے میں کہا گیا کہ فیصلہ ہو چکا اس دوران کسی جگہ نگراں وزیر اعظم کے لیے انٹرویو مکمل کر لیے گئے ہیں اس وزیر اعظم کے نام میں ش آتا ہے وہ ماہر معاشیات ہو گا۔ اس کا تقرر فروری کے آخر تک کیا جائے گا جس کے بعد مارچ میں عام انتخابات ہوں گے جن میں خان بہادر عمران خان دو تہائی اکثریت سے جیت کر کسی اتحادی کی محتاجی کے بغیر حکومت بنائیں گے۔ صوفی صاحب کی نظم کا ایک بند یاد آیا۔ ”ہاتھی کو چیونٹی نے پیٹا مینڈک شور مچائے، 

اونٹ نے آ کر ڈھول بجایا مچھلی گانا گائے“ سنو گپ شپ توسیع کا فیصلہ ہو گیا ہے مگر توسیع موجودہ پارلیمنٹ میں ہو گی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ خان صاحب کے شور شرابے کے باوجود پی ڈی ایم والوں نے ابھی اپنی سیاسی دکانوں کے شٹر گرائے ہوئے ہیں جبکہ دوسری جانب منت سماجت جاری ہے۔ ”ہمیں نہ جاؤ چھوڑ کر کہ جی ابھی بھرا نہیں۔“ بلی تھیلے سے باہر آ گئی ہے امریکا مخالف بیانیہ ہوا میں تحلیل ہو گیا پہلے کے پی کے وزیر اعلیٰ نے امریکی سفیر سے ملاقات کر کے 34 گاڑیاں وصول کیں۔ گزشتہ دنوں خان صاحب نے امریکی لابسٹ خاتون رابن رافیل سے خفیہ ملاقات کر ڈالی جن کا کام تردیدیں کرنا ہے، انہوں نے اس ملاقات کی تردید کی۔ فواد چودھری نے کہا کہ ملاقات تین سال پہلے ہوئی تھی مگر خان صاحب نے اس ملاقات کی تصدیق کر دی جس کے بعد کہا گیا کہ رابن رافیل 

نے صلح کرا دی ہے، راستے میں کتنے کانٹے بچھا دیے گئے تھے اب چننے میں کتنی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ سیاست کے رسیا آئینوں سے آنکھیں چرا رہے ہیں۔ اب سارے امریکی راج دلارے سارے میر جعفر میر صادق آنکھوں کے تارے دل کے سہارے۔ جس دن سے سائیں روٹھے تھے چادر اور تکیہ وکیہ بستر وستر سب روٹھ گئے تھے ابھی تک ہوش ٹھکانے نہیں آئے۔ معصومیت کی انتہا ہے فرمایا میں نے کون سی ایسی بات کہہ دی کہ آئی ایس پی آر کو بیان دینا پڑا۔ ”اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا، کرتے ہیں قتل ہاتھ میں تلوار بھی نہیں“ محب وطن اور تکڑے کی تکرار کس کے لیے تھی اب بھی 4 شخصیات کے نام لے دوں گا کی دھمکی برقرار ہے ایک طرف صدر مملکت کو صلح کا جشن سونپا دوسری طرف دھمکیوں کا وتیرہ، تضاد نہیں تو اور کیا ہے۔ ایک ایک بات پر رونے دھونے کے بجائے آئینی اور قانونی راستہ کیوں نہیں اپنایا جاتا۔ تحریک عدم اعتماد سے نکالے گئے تھے اسی قسم کی تحریک عدم اعتماد لا کر واپس آ جائیں، سارے چور ڈاکو ضمانتوں پر ہیں اب تو ماشاء اللہ اوپر تلے آپ کی بھی ضمانتیں منظور ہو گئیں۔ ترازو کے دونوں پلڑے برابر، چوروں ڈاکوؤں کی تکرار چھوڑ کر آئینی طور طریقے اپنا لیے جائیں تو سارے مقدمات، ساری پیشیاں اور سارے دلدر دور ہو جائیں گے۔ عدالتوں میں ہر دوسرے چوتھے روز پیشی کے لیے صبح جلدی اٹھنا پڑتا ہے جبکہ اپنے ایک فزیشن نے مبینہ طور پر کہا ہے کہ خان صاحب رات کو دیر تک جاگتے اور صبح جلدی اٹھ جاتے ہیں۔ نیند پوری نہیں ہوتی سخت دباؤ میں رہتے ہیں، اس لیے انہیں سکون آور دوائیں استعمال کرائی جاتی ہیں۔ نہ جانے کس گھڑی کیسی خطائیں ہو گئی تھیں کہ رسوائیاں آوازیں دے رہی ہیں۔ فارن فنڈنگ کیس، توشہ خانہ کیس، انسداد دہشت گردی کیس، بغاوت کیس اور الیکشن کمیشن توہین عدالت کیس، مقدمات یکے بعد دیگرے چلے آ رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فارن فنڈنگ کیس اور توشہ خانہ کیس میں بہر صورت نا اہلی کا فیصلہ سنایا جا سکتا ہے، فواد چودھری لاکھ کہتے رہیں کہ کس مائی کے لال میں ہمت ہے کہ وہ عمران خان کو نا اہل کرے۔ ما شاء اللہ دونوں بھائی وکیل ہیں بخوبی جانتے ہیں کہ قانون اپنا راستہ اپنائے گا فیصلے ہوتے آئے ہیں فیصلے ہوتے رہیں گے عدالتیں بند نہیں ہوں گی۔ آئین کی شق 62 ایف پر عمل درآمد ہو گیا تو کوئی کیا کر لے گا۔ دو تہائی اکثریت سے وزیر اعظم بننے والے نواز شریف کو تا حیات نا اہل قرار دے دیا گیا کسی نے کیا کر لیا۔ ایسی باتیں نہیں کرنی چاہیے بلکہ اللہ تعالیٰ سے رحم کی دعا کرنی چاہیے حالات اچھے نہیں پر بتوں سے لڑنے کا فائدہ، اب تو سمجھ آ جانی چاہیے کہ خان صاحب پربتوں سے لڑتے رہے اور چند لوگ گیلی زمین کھود کر فرہاد ہو گئے۔ لفظوں کے ہیر پھیر ارد گرد کے مسائل کو مزید الجھا رہے ہیں۔ خان صاحب خوش قسمت ہیں کہ ہر دوسری پیشی پر عبوری ضمانت ہو جاتی ہے خدانخواستہ کسی دن (بُری گھڑی کہہ کر نہیں آتی) ضمانت منظور نہ ہوئی تو کیا ہو گا۔ رانا ثناء اللہ وزیر داخلہ ہیں تاک میں بیٹھے ہیں اسد عمر کے بقول خان صاحب کو کسی خلائی مخلوق کی حمایت کی ضرورت نہیں، جب تھی اس وقت تو رج کے حمایت حاصل کی ڈی چوک پر 126 دن تک اسی حمایت کے سہارے حکومت وقت پر گرجتے برستے رہے اب خلائی مخلوق نے انتہائی صبر و تحمل کے بعد حمایت سے ہاتھ کھینچ لیا تو بیانات کے گولے پھینکنے لگے۔ حمایت کی ضرورت نہیں تو خفیہ میٹنگوں کیلئے ہر کارے کیوں دوڑائے جا رہے ہیں۔ سارے محب وطن، سب تکڑے، مطلب کے محب وطن کیوں تلاش کیے جا رہے ہیں۔ اپنے مطلب کے محب وطن لانے کیلئے ٹینڈر دینے کی کیوں ضرورت پیش آ رہی ہے۔ سارے دھندے چھوڑ کر ترازو کے دونوں پلڑوں میں پڑے سیاستدانوں سے مل بیٹھ کر سیاسی معاملات کیوں طے نہیں کر لیتے۔ پارلیمنٹ کے معاملات ہیں پارلیمنٹ میں طے کر لیے جائیں اس طرح پارلیمنٹ کے سرنڈر کا طعنہ بھی ختم ہو جائے گا۔ اور آئینی معاملات عدالتوں میں لے جانے کے رجحانات میں کمی آئے گی۔ خان صاحب کے، میرٹ پر تعیناتی کی جائے، جیسے بیانات حساس معاملہ کو متنازع بنا رہے ہیں بلکہ متنازع بنا دیا ہے حالانکہ اپنے دور اقتدار میں خان صاحب نے آئے روز تعیناتیوں اور تقرریوں میں میرٹ کا خیال  نہیں رکھا۔ بڑا الزام لگایا جاتا ہے کہ عثمان بژدار کو وسیم اکرم پلس قرار دے کر 12 کروڑ آبادی کے صوبے کا وزیر اعلیٰ مقرر کرنا اور ساڑھے تین سال تک ان کی حمایت کرنا میرٹ کا کون سا معیار تھا۔ آپ ہی اپنی اداؤں پر ذرا غور کریں ایسی بات کیوں کہی جائے جو کی نہیں گئی اس قسم کے بیانات سے وفاقی حکومت کا کچھ نہیں بگڑ رہا البتہ پنجاب کے پی کے اور بلوچستان میں سیاسی عدم استحکام کی لہر زور پکڑ رہی ہے۔ شنید ہے کہ اپنے ارکان مستعفی ہو رہے ہیں، کے پی کے میں دو چھوڑ گئے، 15 سے 20 تیار بیٹھے ہیں پنجاب میں حکومت کو صرف 6 ارکان کی حمایت باقی رہ گئی، شور ہے کہ اس برتری کو بھی جلد ختم کر دیا جائے گا، واللہ اعلم بالصواب۔ حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ سیانے کہنے لگے ہیں کہ خان صاحب کو یا تو یقین ہے کہ انہیں کچھ نہیں ہو گا یا وہ چاہتے ہیں کہ انہیں کچھ ہو جائے دونوں صورتوں میں ملکی سیاسی صورتحال غیر یقینی رہے گی۔

مصنف کے بارے میں