یہ خان صاحب کا دردِسر نہیں!

یہ خان صاحب کا دردِسر نہیں!

پونے چار سال تک ”ایک پیج“ کو اپنی سیاسی حکمت کاری کا اعجاز، اپنی مدبرانہ سیاست کا طرّہ امتیاز اور خود اپنی دانش و بصیرت کیلئے ”سرمایہ اعزاز“ سمجھنے والے عمران خان کے ہنستے بستے چمن پر، عین موسم بہار میں، پت جھڑ کی ایسی رُت آئی کہ وہ ابھی تک اپنے حواس پر قابو نہیں پا سکے۔ فوج کے سیاسی کردار پر تنقید پہلے بھی ہوتی رہی ہے۔ پرانی روش کا اعادہ ہوا تو آئندہ بھی ہو گی۔ سرِ دست، فوج کے نہایت واضح اعلان پر یقین کر لینا چاہیے کہ وہ سیاست سے دستکش ہو کر اپنی آئینی ذمہ داریوں تک محدود ہو چکی ہے۔ یہ تبدیلی لائق تحسین ہے۔ جس طرح فوج کا سیاست میں دخیل ہونا ایک نا پسندیدہ عمل ہے اسی طرح جمہوریت کی دعویدار کسی سیاسی شخصیت کی طرف سے فوج کو چاند ماری کا ٹیلہ بنا لینا، اُسے اُکسانا، اس سے اپنے سیاسی حریفوں کی گردن زنی کی توقع رکھنا، اس کے غیر سیاسی کردار پر طعنہ زنی کرنا، اُسے غیر ضروری تنازعات میں گھسیٹنا اور اٹھتے بیٹھتے سوکنوں کی طرح کوسنے دینا بھی انتہائی افسوس ناک رویہ ہے۔ عمران خان نے تو فرطِ غضب میں اعلیٰ فوجی قیادت کی حب الوطنی پر بھی سوالات اٹھا دیئے ہیں۔ اُن کے لہجے کی زہرناکی ”جانور“ قرار دینے کے بعد میر جعفر اور میر صادق جیسے نامطلوب استعاروں تک جا پہنچی ہے۔ وہ یہ جملہ بھی بڑے تسلسل سے دہرانے لگے ہیں کہ ”میں خطرناک ہو جاؤں گا“۔ ان کے نورتنوں میں سے کسی کو بتانا چاہیے کہ ”عالی مقام! آپ وزیراعظم ہوتے ہوئے بھی کچھ کم خطرناک نہ تھے۔“ خان صاحب نے ابھی تک کھلے لفظوں میں نہیں بتایا کہ اُن کے خطرناک ہو جانے سے، کس کو خطرات لاحق ہو جائیں گے؟ لیکن نومبر میں نئے آرمی چیف کی تقرری کے حوالے سے اُن کی تازہ شعلہ بیانی نے اتنا پیغام ضرور دے دیا ہے کہ وہ واقعی ”خطرناک“ہو چکے ہیں۔ ”خطرناک“ ہو جانا دراصل ایک ایسی ذہنی کیفیت کا نام ہے جو ہوش و خرد کے بندھنوں سے آزاد ہو جاتی ہے۔ جنوں میں مبتلا خطرناک شخص یہ نہیں دیکھتا کہ اس کا پھینکا ہوا پتھر، کس کا سر پھوڑے گا۔ وہ تو صرف زخم سے پھوٹتے خون کی لکیر سے لطف لیتا اور لہو میں لتھڑے چہرے سے آسودگی پاتا ہے۔ عمران خان زندگی کے کسی دور میں بھی اظہار خیال کی نفاستوں، زبان و بیان کے سلیقوں، حرف و صوت کے قرینوں اور لب و لہجہ کی نزاکتوں کے قائل نہیں رہے۔ ان کی خود تراشیدہ ”ریاست مدینہ“ میں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو پذیرائی نہیں مل سکی کہ ”لوگوں کے ساتھ حسین پیرائے میں بات کیا کرو“۔ وہ ایک اکھڑ کھلاڑی کے سے ناتراشیدہ لہجے میں ہر منہ آئی بات کہہ ڈالتے بلکہ شعوری کوشش کرتے ہیں کہ اُن کی گفتگو کا پیرایہ ”حسنِ کلام“ سے کوسوں دور اور ممکنہ حد تک تلخ و زہر ناک ہو۔ انہی صفات کے حامل رفقا، ان کے دربار خاص تک رسائی پاتے 

اور مقربین میں شمار ہوتے ہیں۔ خان صاحب کی یہ شعلہ فشانی بلکہ ”آتش دہانی“ جب ریاست کے نہایت حساس منطقوں تک جا پہنچتی ہے تو پھر وہ واقعی بہت خطرناک بلکہ خوفناک دکھائی دینے لگتے ہیں۔ نئے آرمی چیف کے حوالے سے ان کے ارشادات اس کی تازہ مثال ہیں۔

یہ اسی سال، 14 اپریل کا ذکر ہے۔ خان صاحب کا ”خطرناک“ عہد حکمرانی تمام ہو چکا تھا۔ نئی مخلوط حکومت قائم ہو چکی تھی جب آئی۔ ایس۔ پی۔ آر کے ڈائریکٹر جنرل، میجر جنرل افتخار بابر نے ایک نہایت جامع پریس کانفرنس میں بڑی نپی تلی گفتگو کی۔ اس پریس کانفرنس کے دوران میں، ایک مرحلے پر جنرل صاحب نے کہا:

" LET ME PUT THIS THING TO REST, ONCE FOR ALL. PAKISTAN ARMY CHIEF GEN BAJWA, IS NEITHER SEEKING EXTENSION NOR WILL HE ACCEPT IT, NO MATTER WHAT, HE WILL BE RETIRING IN NOVEMBER 2022"

”میں اس بات کو ہمیشہ کیلئے طے کر دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان کے آرمی چیف، جنرل باجوہ، نہ تو ایکسٹینشن مانگیں گے نہ ہی ایسی کوئی پیشکش، کسی بھی صورت قبول کریں گے۔ وہ نومبر 2022 میں ریٹائر ہو جائیں گے۔“

اتنے واضح اور دو ٹوک اعلان کے بعد اس قدر حساس معاملے کی پٹاری سر راہ رکھ کر بین بجانا گلیوں، بازاروں، چوکوں اور چوپالوں ہی کا نہیں، دنیا بھر کے تماش بینوں کی تفریح طبع کیلئے تماشا لگانا، حب الوطنی کا کون سا قرینہ ہے؟ اگلے دن، معروف برطانوی نشریاتی ادارے نے اپنی تجزیاتی خبر پہ سرخی جمائی ”ڈوبتے پاکستان میں اپنے چیف کی تلاش“۔ ہمارے پڑوس میں بھی تمسخر کی پھلجھڑیاں چھوٹ رہی ہیں۔ درون خانہ بھی ایک بے ذوق سرکس لگ گیا ہے۔ اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری کروڑوں پاکستانیوں کی زندگیوں، ان کے مال اسباب، ان کے آشیانوں اور ان کی لہلہاتی کھیتیوں سے کھیلتے سیلاب پر نگاہیں مرکوز کیے، ہماری دست گیری کی تدبیریں کر رہی ہے اور یہاں خان صاحب اپنی خطرناکی کے جوہر دکھاتے ہوئے بے ہنگم سنگ باری کیے جا رہے ہیں۔

1998ء میں وزیراعظم نواز شریف نے جنرل پرویز مشرف کو آرمی چیف تعینات کیا تھا۔ پندرہ برس بعد 2013ء میں نوازشریف ہی نے منتخب جمہوری وزیراعظم کے طور پر جنرل راحیل شریف کی تقرری کی۔ پیپلزپارٹی کو 2010 میں یہ موقع ملا، لیکن آصف زرداری اور یوسف رضا گیلانی نے گریز پائی کو عزیز جانا اور مصلحت کیشی کے تحت جنرل کیانی کو توسیع دے دی۔ 2016ء میں ایک بار پھر نوازشریف ہی نے اپنی یہ آئینی اور منصبی ذمہ داری پوری کی۔ آج آرمی چیف کی تقرری کے حوالے سے انگاروں پہ لوٹنے والے عمران خان کو جب 2019 میں ایسا ہی موقع ملا تو اُن کی خطرناکی، بھیگی بلی بن کر جانے کس گوشے میں جا دبکی، سو تاریخ نے ایک بار پھر یہ ذمہ داری مسلم لیگ ن کے کندھوں پہ ڈال دی ہے۔ عجیب اتفاق ہے کہ گزشتہ چوبیس برس کے دوران جمہوری ادوار کے تمام آرمی چیفس کی تقرریاں مسلم لیگ ن کے عہد میں ہوئیں۔ باقی جمہوری حکمرانوں نے ”خیمہ توسیع“ کے سائبان میں ہی عافیت جانی۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک تحریری آئین رکھتا ہے۔ یہ آئین غیر مبہم الفاظ میں (ہر جمہوری پارلیمانی ملک کی طرح) مسلح افواج کے سربراہوں کی تقرری کا اختیار وزیراعظم کو دیتا ہے۔ وزیراعظم کس سے رائے لیتا، کس سے مشاورت کرتا اور کس سے استخارہ نکلواتا ہے، یہ بھی اُسی کی صوابدید ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے آئین زندہ و سلامت بھی ہے اور نافذ العمل بھی۔ جس طرح ایوان میں  اکثریت کی بدولت خان صاحب وزیراعظم تھے، اسی طرح آج ایوان کی اکثریت کا اعتماد رکھنے والے شخص کا نام شہباز شریف ہے اور وہ وزیراعظم پاکستان ہیں۔ اگلا آرمی چیف کون ہو گا؟ یہ اب خان صاحب کا درد سر نہیں۔ جب یہ واقعی اُن کا درد سر تھا تو گوشہ گیر ہو گئے، آج اس قدر آتش زیر پا کیوں ہیں؟ جن کا درد سر ہے انہیں سوچنے اور فیصلہ کرنے دیں۔

مصنف کے بارے میں