میرے پاس دینے کیلئے کچھ نہیں، وقت آ گیا ہے عدلیہ کو ڈلیور کرنا پڑے گا،چیف جسٹس ثاقب نثار

میرے پاس دینے کیلئے کچھ نہیں، وقت آ گیا ہے عدلیہ کو ڈلیور کرنا پڑے گا،چیف جسٹس ثاقب نثار

چارسدہ:چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے کہا ہے کہ وقت آ گیا ہے عدلیہ کو ڈلیور کرنا پڑے گا، جو قومیں ایڈہاک ازم پر چلتی ہیں وہ کبھی ترقی نہیں کرتیں۔


تفصیلات کے مطابق چارسدہ میں جوڈیشل کمپلیکس میں ججز اور وکلاءسے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستا ن نے کہا کہ آپ کی محبت میرے لیے قرض ہے ،آپ لوگوں کا یہ پیار قرض رہے گا جبکہ میرے پاس دینے کیلئے کچھ نہیں،یہ کمپلکس دنیا کے بہترین کمپلیکس میں میں سے ایک ہے۔

یہ بھی پڑھیں:حکمران احتساب میں نہیں اللہ کی پکڑ میں آئے ، نوازشریف پہلے سیاستدان نہیں جو جیل جائیں گے:شیخ رشید

جسٹس ثاقب نثار نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ وقت آگیا ہے کہ عدلیہ ڈلیور کریں اور انصاف کریں،لوگوں کو انصاف نہیں ملتا تو وجہ یہ ہے کہ قوانین کی تشکیل نو نہیں ہوئی،وکلاءکی شکل بڑھانے کےلئے سیمینارز منعقد کروائے ،قومیں علم ، جوڈیشل سسٹم اور لیڈر شپ سے بنتی ہیں، آج بھی 18سال پرانے مقدمات چل رہے ہیں جبکہ فراہمی انصاف کیلئے عدلیہ کو کام کرنا ہو گا،ادارے عمارتوں سے نہیں شخصیات سے بنتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:چیف جسٹس کا پانی کے نمونے پنجاب سے ٹیسٹ،خیبرپختونخوا میں اتائیوں کیخلاف کارروائی کرنے کا حکم

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ میرے پاس دینے کیلئے کچھ نہیں، آپ لوگوں کا یہ پیارمیرے اوپر قرض رہے گا، انصاف کی فراہمی کیلئے آپ سے تعاون مانگنے آیا ہوں ۔انصاف میں تاخیر نئے قوانین کا نہ بننا ہے،انصاف کی جلد فراہمی کے لئے ورکشاپس اور سیمنارز وقت کی اہم ضرورت ہیں،آج بھی ایسے مقدمات کو ڈیل کررہا ہوں جو 1985 کو دائر ہوئے۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں