سینٹ انتخابات میں ووٹ فروخت کرنے کے الزام پر پی ٹی آئی اراکین اسمبلی کا ردعمل سامنے آگیا

سینٹ انتخابات میں ووٹ فروخت کرنے کے الزام پر پی ٹی آئی اراکین اسمبلی کا ردعمل سامنے آگیا
پی ٹی آئی کے اراکین نے عمران خان کے الزامات کو مسترد کر دیا، فوٹو بشکریہ فیس بک

پشاور: پاکستان تحریک انصاف کی رکن صوبائی اسمبلی نگینہ خان، نسیم حیات اور نرگس علی نے سینیٹ انتخابات میں ووٹ بیچنے سے متعلق عمران خان کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے پارٹی کیلئے تنظیم سازی کی اور ممبرز بنائے۔


مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نگینہ خان نے عمران خان کے الزامات کی تردید کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں جب میں وزیر اعلیٰ پرویز خٹک سے ملی تو انہوں نے کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے، اور نہ ہی کسی قسم کی کوئی لسٹ میڈیا کو فراہم کی گئی ہے، ہمیں نہ ہی کوئی شوکاز دیا گیا اور نہ ہی ہم سے پوچھا گیا ہے، پہلے ہم سے پوچھا جاتا اس کے بعد ہمیں شوکاز نوٹس دیا جاتا، ہم قرآن مجید لے کر پھر رہے ہیں کہ ہم نے سینٹ انتخابات میں اپنی پارٹی کو ہی ووٹ دیا ہے، ہم حلفاً کہتے ہیں کہ ہم نے پارٹی کو ووٹ دیا ہے۔

یہ خبر بھی پڑھیں: عمران خان کے ساتھ مل کر الیکشن لڑیں گے: شیخ رشید

 نسیم حیات نے کہا کہ اگر کرپشن ختم کرنی تھی تو انٹی کرپشن کے ادارے کو کیوں بند کیا ہوا ہے، احتساب کمیشن کا کیا حال ہے، سینٹ انتخابات میں ورکروں کو ووٹ کیوں نہ دیا گیا، سرمایہ داروں کو کیوں لایا گیا ہے، ورکر صرف جھنڈے اٹھائے اور نعرہ لگانے کیلئے رہ گئے ہیں، کیا ورکر کا حق نہیں بنتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ایک وزیر کا بھائی احتساب کمیشن کا ڈی بی بنا ہوا ہے، عمران خان تو کہتے ہیں کہ رشتہ داروں کو نہیں لیا جائے گا پھر وہ شخص کیسے احتساب کمیشن میں بیٹھا ہوا ہے، لسٹ میں نام زیادہ تھے نکالے جانے والے ارکان کے علاوہ باقی نام کہاں گئے۔ باقی ارکان نے وزیر کے ذریعے وزیر اعلیٰ کو دھمکی دی تھی، جب ارکان سے ان کو ڈر تھا کہ وہ سخت ردعمل دیں گے ان کے نام لسٹ سے ہٹا دیئے گئے، جنہوں نے گھر بنانے تھے، بیٹوں کی شادیاں کرنی تھیں اور تیسری اور چوتھی شادیاں کرنی تھی ان سے بھی پوچھا جائے۔

یہ خبر بھی پڑھیں: پارلیمنٹ اور پی ٹی وی پر حملہ کرنے والے لاڈلے کو استثنیٰ مل سکتا ہے: مریم اورنگزیب

 نسیم حیات نے کہا کہ عمران خان بیرونی فنڈنگ کا حساب دیں، ہم پر الزام ہیں تو چوہدری سرور کے پاس ووٹ کہاں سے آئے، مجھے خواتین ایم پی ایز کی مخبری پر مجبور بھی کیا گیا، پارٹی سے پیسے لے کر امیدوار کو ووٹ دینے والوں کو نہیں نکالا گیا، پارٹی کی جانب سے مجھے پیسوں کی پیش کش ہوئی تھی۔

 نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں