پنجاب حکومت کا صوبے کی تاریخ کا سب سے بڑا رمضان پیکیج دینے کا اعلان

پنجاب حکومت کا صوبے کی تاریخ کا سب سے بڑا رمضان پیکیج دینے کا اعلان

لاہور: پنجاب حکومت نے ماہ رمضان میں صوبے کی تاریخ کا سب سے بڑے رمضان پیکیج دینے کا اعلان کیا ہے جس میں ریکارڈ سبسڈی دی جائے گی۔


پنجاب کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب صمصام بخاری نے کہا کہ اس بار صوبے کی تاریخ کا سب سے بڑا رمضان پیکیج دیا جا رہا ہے جس کے تحت عوام کو مہیا کی جانے والی سبسڈی کی مد میں ریکارڈ رقم مختص کی جائے گی، پیکیج کے تحت صوبے بھر میں 309 رمضان بازار لگائے جائیں گے، رمضان المبارک میں 2 ہزار کے قریب دستر خوانوں کا اہتمام کیا جائے گا، اشیائے ضروریہ مارکیٹ کے مقابلے میں رمضان بازاروں میں سستے داموں دستیاب ہوں گی۔

انہوں نے بتایا کہ کابینہ اجلاس میں پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019ئ کی اور واٹر ایکٹ 2019ئ کے مسودے کی منظوری دی گئی جس کے تحت واٹر ریسورسز کمیشن قائم کیا جائے گا جس کے چیئرمین وزیراعلیٰ ہوں گے، واٹر ریسورسز کمیشن پانی کے حصول کے لیے لائسنس کی پابندی پر عمل درآمد یقینی بنائے گا۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ کابینہ کے اجلاس میں ضلع منڈی بہائ الدین کے علاقے رسول میں پنجاب یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے قیام، پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے ذریعے پاپولیشن ویلفیئر پروگرام پنجاب 2017-20ئ کے لیے فنانسنگ، شعبہ صحت اور شعبہ پاپولیشن ویلفیئر کے ڈیوالڈ ورٹیکل پروگرامز کے لیے فنڈز، ڈینگی کے فوری تدارک کے لیے ریگولیٹری اقدامات کے تحت ٹمپریری ریگولیشنز 2019ئ ، پنجاب اینیمل ہیلتھ بل2019 ئ ، بینوویلنٹ فنڈ رولز میں ترامیم، 720 میگاواٹ کے کیروٹ پاور پراجیکٹ کے لیے اراضی اور ایل پی جی کی مارکیٹ ویلیو کے مطابق رائلٹی کے امور کی منظوری دی گئی۔

صمصام علی بخاری نے کہا کہ اجلاس میں پنجاب سیلز ٹیکس کے سروسز ایکٹ 2012 کے سیکنڈ شیڈول میں ترمیم اور واٹر ایکٹ 2019ئ کے مسودے کی منظوری دی گئی۔ ایکٹ کے تحت واٹر ریسورسز کمیشن بنے گا جس کے وزیراعلیٰ چیئرمین ہوں گے۔ بغیر لائسنس پانی نکالنے پر پابندی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب کابینہ نے پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019ئ ، پنجاب میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز ریفارمز ایکٹ 2019ئ ، بینک آف پنجاب کے نئے صدر کی تقرری اور محکمہ آب پاشی کے انجینئرنگ اسٹاف کی تنخواہوں میں اضافے کی اصولی منظوری بھی دی گئی تنخواہوں میں اضافے کے کیس کو کابینہ کمیٹی برائے فنانس میں پیش کیا جائے گا۔