جمال خاشقجی قتل: متحدہ عرب امارات کا مشتبہ جاسوس ستنبول سے گرفتار

جمال خاشقجی قتل: متحدہ عرب امارات کا مشتبہ جاسوس ستنبول سے گرفتار
image by facebook

انقرہ : ترکی نے دو ایسے افراد کو گرفتار کیا ہے جنھوں نے متحدہ عرب امارات کے لیے جاسوسی کرنے کا اقرار کیا ہے۔


ایک سینیئر ترک اہلکار نے بتایا کہ ترکی، گذشتہ برس استنبول میں واقع سعودی سفارت خانے میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل سے جڑے ممکنہ روابط کی تحقیقات کر رہا ہے۔

سی آئی اے کا ماننا ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اس قتل کا حکم دیا تھا۔سعودی حکام اس بات پر مصر ہیں کہ جمال خاشقجی کا قتل سعودی ایجنٹوں کی ’روگ‘ یعنی بلااجازت باغیانہ کارروائی تھی۔

ترک حکام کا کہنا ہے ہم اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا ان اشخاص کے ترکی میں داخلے کا تعلق جمال خاشقجی کے قتل سے ہے یا نہیں۔

انھوں نے مزید بتایا کہ پیر کو کی جانے والی گرفتاری سے قبل ان افراد کی پچھلے چھ مہینے سے نگرانی کی جا رہی تھی۔

اس بات کا امکان ہے کہ عربوں کے بارے میں معلومات جمع کرنے کی کوشش کی جا رہی ہو جن میں ترکی میں رہنے والے سیاسی مخالفین شامل ہیں،

ترک حکام نے ایک اینکرپٹیڈ کمپیوٹر اپنے قبضے میں لیا ہے جس میں ان کے مطابق استنبول میں پایا جانے والا جاسوسی کا نیٹ ورک تھا۔