اسلام آباد:سابق وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں نے کوئی خبر لیک نہیں کی، جو بھی باتیں ہوئیں وہ حقائق پر مبنی نہیں ہیں۔

تفصیلات کے مطا بق سابق وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ میں وزارت داخلہ کا سوا چار سالہ ریکارڈ آپکے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔قا نون کو نافذ کرنا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ انکاکہنا تھا کہ2013میں 5 سے6دھماکے روزانہ ہوا کرتے تھے، آج کراچی آپریشن کے بہت سے دعویدار بنے ہوئے ہیں،اچھا کا م ہوتا اسکا کریڈٹ لینے سب آجاتے ہیں۔

انھوں نے اپنے وزارت داخلہ کے دور کا ریکارڈ سامنے رکھتے ہوئے کہا کہ ہزاروں شناختی کارڈوں کو میں کینسل کیا،32ہزرا غیر ملکیوں کے پاسپورٹ منسوخ کیے، اب ویزے سیکیورٹی کلئیرنس کے بعد جاری کیے جاتے ہیں 2لاکھ سے زیادہ ممنوعہ بر کے لائسنس کینسل کیے گئے،اپنے دور میں دس ہزار سے زیادہلوگوں کے نام ایسی ایل سے نکالے،پچھلے اڑھائی تین سال میں بہت سے تبدیلی آئی ہے،اربوں روپے کی لاگت سے افغان بارڈر پرباڑ لگائی جارہی ہے انھوں نے مزید کہالوگوں کی غیر قانونی نقل وحرکت روکنے کیلئے بھی لاکھوں روپے خرچ کیے گئے ہیں۔

انھوں نے پاکستان مقیم غیر ملکیوں سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں مقیم ہزاروں غیر ملکیوں کا ریکارڈ وزارت داخلہ کے پاس ہے۔

دہشتگردی سے متعلق انکا موقف تھا کہ پاکستان میں دہشتگردوں کا کوئی نیٹ ورک نہیں ہے ،پاکستان کا آج شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جن میں دہشتگردی کا گراف نیچے آیا ہے،دہشتگردی کیخلاف جنگ آخری مراحل میں ہے اب دہشتگرد کمزور اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ دہشتگردی کو شکست دینے میں میڈیا کا بہت بڑا کردار ہے اور ہمیں صبرو تحمل سے کا م لینا ہوگا۔