افغان حکومت نے عید الاضحی کے موقع پرطالبان سے تین ماہ کیلئے جنگ بندی کا اعلان کردیا

افغان حکومت نے عید الاضحی کے موقع پرطالبان سے تین ماہ کیلئے جنگ بندی کا اعلان کردیا

Image by TNS World

کابل: طالبان سے افغان حکومت نے عید الاضحی کے موقع پر تین ماہ کیلئے جنگ بندی کا اعلان کردیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان حکومت نے آج سے 21 نومبر تک جنگ بندی کا اعلان کیا ہے جبکہ دوسری جانب طالبان کی طرف سے چار روزہ جنگ بندی کا حتمی اعلان ہیبت اللہ اخوند زادہ کی طرف سے کیا جائے گا، تاہم طالبان نے عید الاضحی پر سیکڑوں قیدیوں کی رہائی کا اعلان کیا ہے۔رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق افغان صدر اشرف غنی نے طالبان کو تین ماہ کی جنگ بندی کی پیش کش کی ہے، جنگ بندی کی پیشکش آج سے 12 ربیع الاول تک تین ماہ کے لیے کی گئی ہے۔

افغان صدر کے مطابق مشروط جنگ بندی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک طالبان جنگ بندی کا احترام کریں گے۔افغان حکام کے مطابق یہ سیزفائر صرف طالبان کے ساتھ کیا گیا ہے، اس میں اسلامک اسٹیٹ (داعش) سمیت دیگر شدت پسند گروپ شامل نہیں ہیں۔دوسری جانب پاکستان نے جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد ایسے تمام اقدامات کی حمایت کرتا ہے، جس سے افغانستان میں دیر پا امن قائم ہو۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان کے جشن آزادی کے موقع پر یہ اعلان اور زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔مزید کہا گیا کہ پاکستان عیدالاضحی کے تہوار کو تمام فریقین کی جانب سے سیزفائر کے لیے مناسب موقع سمجھتا ہے اور ایسے اقدامات امن و استحکام کا ماحول پیدا کرنے میں مددگار ہوں گے۔امریکہ نے بھی افغان حکومت کی جانب سے طالبان کو جنگ بندی کی پیش کش کا خیرمقدم کیا ہے۔امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا کہ صدر اشرف غنی کا اعلان افغان عوام کی خواہشات کی ترجمانی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ جنگ بندی پر یہ بات واضح ہوگئی تھی کہ افغان عوام جنگ کا خاتمہ چاہتےہیں اور امید ہےکہ نیا سیز فائر افغانستان میں امن کے لیے مددگار ثابت ہوگا۔مائیک پومپیو کے مطابق امریکہ اور اتحادی اس اقدام کی حمایت کرتے ہیں اور طالبان سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس پیش کش کا مثبت جواب دیں۔