امریکہ کا درمیانی فاصلے تک مار کرنیوالے کروز میزائل کا تجربہ

امریکہ کا درمیانی فاصلے تک مار کرنیوالے کروز میزائل کا تجربہ
image by Pentagon

امریکہ نے جوہری ہرہتھیاروں سے دستبرداری کے بعد پہلی مرتبہ درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کا کامیاب تجربہ کر لیا ہے ۔


اس حوالے سے پینٹاگون کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ نے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والا کروز میزائل کا تجربہ کیا ہے۔ یہ زمین سے زمین تک مار کرنے والے روائتی کروز میزائل ہے جس کی رینج 500 کلو میٹر ہے۔

واضح رہے گزشتہ 31 سالوں میں امریکہ کی جانب سے کسی بھی قسم کے کروز میزائل کا کیا جانے والا یہ پہلا تجربہ ہے۔

اس ضمن میں بات کرتے ہوئے امریکہ کے نئے سیکرٹری دفاع مارک ایسپر نے کہا کہ اگر امریکی فوج زمینی لانچ سے چلنے والے کروز میزائل کا مکمل نظام بنا لیتا ہے تو اسے جلد ایشیاء میں لگایا جائے گا۔

دوسری جانب بین الاقوامی دفاعی تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ جوہری ہتھیاروں کی روک تھام کے معاہدے سے دستبرداری کے بعد امریکہ روس اور چین کے مقابلے میں خود کو مزید مضبوط کرنے کی راہ پر چل پڑا ہے۔

ایسپر کا کہنا ہے کہ چین کے پاس 80 فیصد تک 500 سے لے کر پانچ ہزار کلومیٹر تک کی رینج والے میزائل موجود ہیں۔