جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر سربراہی پاک فوج نے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں

جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر سربراہی پاک فوج نے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں
کیپشن: image by ISPR

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے دور ملازمت میں خطرناک ترین دہشتگردوں کو تختہ دار پر لٹکایا ، دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے آپریشن ردالفساد اور خیبر فور کا آغاز کیا ، افغانستان میں قیام امن کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی تین سالہ مدت کے دوران کئی دہشت گردوں کو فوجی عدالتوں سے پھانسی کی سزا ہوئی۔ کئی خطرناک دہشت گردوں کو تختہ دار پر لٹکایا گیا۔ افغانستان میں امن عمل میں پیش رفت ہوئی۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، امریکہ سمیت کئی ممالک کے ساتھ تعلقات کی بہتری میں اہم کردار ادا کیا۔

پاک فوج میں احتساب کے عمل میں بھی تیزی لائے۔ پاک فوج نے ملکی معیشت کو سنبھالنے کے لئے رضا کارانہ طور پر رواں سال دفاعی بجٹ میں اضافہ نہ لینے کا فیصلہ کیا قومی ترقیاتی کونسل کے رکن کی حثیت سے بھی آرمی چیف اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے فوج کی کمان سنبھالنے کے بعد آپریشن ضرب عضب کو ملک بھر میں جاری رکھا۔دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے 17 فروری 2017کو آپریشن ردِالفساد کا آغاز کیا گیا۔آپریشن ردالفساد کے بڑے اہداف میں ملک کے مختلف علاقوں میں قائم شدت پسندوں کے ’سلپر سیلز‘ اور ان کے سہولت کاروں کا خاتمہ کرنا تھا۔

5 جولائی 2017 کو آپریشن خیبر 4 شروع کیا گیا جو 21 اگست 2017 کو مکمل کیا گیا۔ پاک فوج خیبر ایجنسی کی 12 ہزارفٹ اونچی چوٹی برخ محمد کنڈاؤ کو دہشت گردوں سے خالی کرا کے  کنٹرول سنھالنے میں کامیاب ہوئی۔

آرمی چیف جنرل قمرباجوہ نے امریکہ ، سعودی عرب، یو اے ای، ایران ، افغانستان سمیت دیگرممالک کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کیا ۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغان امن عمل کو آگے بڑھایااور ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کا امن افغانستان کے امن سے مشروط ہے۔

رواں سال جولائی میں آرمی چیف نے امریکی محکمہ دفاع کے ہیڈ کوارٹر پینٹا گون کا دورہ کیا، جہاں ان کا تاریخی استقبال کیا گیا۔ آرمی چیف کو 21 توپوں کی سلامی دی گئی۔

امریکی عسکری حکام نے افغان امن عمل میں پاک فوج کے کردار کی تعریف کی  اوردہشتگردی کے خلاف جنگ  میں پاکستان کے کردار کو بھی سراہا۔ملکی حالات کے پیش نظرسپہ سالار نے رضا کارانہ طور پر رواں سال دفاعی بجٹ میں اضافہ نہ لینے کا فیصلہ کیا،یہ رقم قبائلی اضلاع اور بلوچستان میں خرچ کرنے کو ترجیح دی۔