طالبان کے 13 رہنماؤں کو سفری پابندیوں پر حاصل استثنیٰ ختم

طالبان کے 13 رہنماؤں کو سفری پابندیوں پر حاصل استثنیٰ ختم

نیویارک: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل 13 طالبان رہنماؤں کو حاصل سفری پابندیوں کے استثنیٰ کو جاری رکھنے کے معاملے پر تاحال کوئی فیصلہ نہیں کر سکا جو گزشتہ رات ختم ہو چکا ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق سلامتی کونسل نے 2011ءمیں 135 طالبان رہنماؤں پر پابندیاں عائد کی تھیں تاہم دیگر ملکوں کے حکام سے ملاقاتوں کیلئے 13 طالبان رہنماؤں کو سفری استثنیٰ دیا گیا تھا جو گزشتہ شب ختم ہوا۔ 

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اس بات پر کوئی فیصلہ نہیں کر سکی کہ افغانستان کے موجودہ حکمران طالبان کے 13 رہنماؤں کا سفری پابندیوں سے استثنیٰ جاری رکھا جائے یا نہیں۔ 

چین اور روس تمام 13 رہنماو¿ں کی سفری پابندیوں کے استثنیٰ میں توسیع چاہتے ہیں مگر امریکہ اور مغربی ممالک طالبان کی جانب سے خواتین کے حقوق کی بحالی اور جامع حکومت کا وعدہ پورا نہ کرنے کیخلاف بطور احتجاج سفری پابندیوں سے مستثنیٰ رہنماؤں کی تعداد کم کرنے کے خواہشمند ہیں۔ 

سلامتی کونسل کے سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ روس اور چین نے جمعہ کی شام امریکی تجویز پر غور کرنے کیلئے مزید وقت طلب کیا ہے کیونکہ اس ضمن میں ہونے والی مشاورت نجی نوعیت کی تھی اور اب 13 طالبان عہدیداروں پر عائد سفری پابندیاں 22 اگست تک اس وقت ہی بحال ہو پائیں گی جب روس اور چین امریکی تجویز کا جواب دیں گے۔ 

سلامتی کونسل کے سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ 13 طالبان عہدیداروں کیلئے سفری استثنیٰ ختم ہونے پر امریکہ نے جمعرات کو ان میں سے 7پر دوبارہ سفری پابندی عائد کرنے اور دیگر چھ کیلئے استثنیٰ برقرار رکھنے کی تجویز پیش کی لیکن ان کے سفر کو صرف قطر تک محدود رکھا گیا جہاں امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات ہو چکے ہیں۔

سفارت کاروں کے مطابق روس اور چین نے امریکی تجویز پر اعتراض کرتے ہوئے متبادل تجویز پیش کی کہ تمام 13 طالبان عہدیداروں کو 90 دن کیلئے سفری استثنیٰ دیا جائے لیکن وہ صرف روس، چین، قطر اور علاقائی ممالک کا سفر کریں تاہم برطانیہ، فرانس اور آئرلینڈ نے روس اور چین کی تجویز کی مخالفت کی ہے۔ 

ان ممالک کا اصرار ہے کہ تمام 13 عہدیداروں کیلئے یہ استثنیٰ جاری نہیں رہ سکتا کیونکہ طالبان نے خواتین کے حقوق، جامع حکومت کی تشکیل اور دیگر معاملات کے حوالے سے اپنے وعدے پورے نہیں کئے اور ذرائع کا کہنا ہے کہ اب روس اور چین اس معاملے میں امریکہ کی تجویز پر ہی غور کر رہے ہیں۔ 

مصنف کے بارے میں