صوفی ازم کے شوق نے تعلیم یافتہ امریکی شہری کو مزار کا دربار ی بنا دیا

لاہور:مزاروں پر گلے میں مالائیں ڈالے پھر نے والے ملنگ جن کے متعلق یہی خیال کیا جاتا ہے کہ دنیاوی تعلیم کے حوالے سے وہ بالکل ان پڑھ ہوتے ہیں۔ مگر ہم آپ کو ایک ایسے ملنگ کے بارے میں بتانے جا رہے ہیں جو امریکی شہری ہے اور اس نے امریکی ریاست میامی کی ایک یونیورسٹی سے ایم بی اے کر رکھا ہے۔ یہ ملنگ آج کل لاہور کے ایک دربار پر زندگی گزار رہا ہے۔

صوفی ازم کے شوق نے تعلیم یافتہ امریکی شہری کو مزار کا دربار ی بنا دیا

لاہور:مزاروں پر گلے میں مالائیں ڈالے پھر نے والے ملنگ جن کے متعلق یہی خیال کیا جاتا ہے کہ دنیاوی تعلیم کے حوالے سے وہ بالکل ان پڑھ ہوتے ہیں۔ مگر ہم آپ کو ایک ایسے ملنگ کے بارے میں بتانے جا رہے ہیں جو امریکی شہری ہے اور اس نے امریکی ریاست میامی کی ایک یونیورسٹی سے ایم بی اے کر رکھا ہے۔ یہ ملنگ آج کل لاہور کے ایک دربار پر زندگی گزار رہا ہے۔


ایم بی اے کرنے کے بعد اس کو پاکستانی ثقافت اور اسلام کے متعلق جاننے کا شوق ہوا اور یہ امریکہ سے پاکستان چلا آیا۔ یہاں آ کر جب اس نے اسلام کا مطالعہ کیا تو اسلامی تعلیمات نے اس کے دل میں گھر کر لیا اور یہ مشرف بہ اسلام ہو گیا اور پاکستان ہی میں مستقل سکونت اختیار کر لی۔اس شخص نے اسلام قبول کرنے کے بعد صوفی ازم کی راہ اختیار کر لی اورلاہور کے ایک دربار پر رہنے لگا۔ اس کا کہنا ہے کہ دربار پر آنے والے پاکستانی سمجھتے ہیں کہ میں نشے کا عادی ہوں لیکن میرا خیال ہے کہ لوگ اسلام کے مفہوم سے بخوبی آشنا نہیں جو ”امن“ ہے۔