دمشق: انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ شام میں دارالحکومت دمشق میں نواح میں باغیوں کے زیرانتظام علاقے مشرقی غوطہ میں سرکاری افواج کی بمباری سے درجنوں عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ سیریئن اوبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ پیر کو کیے جانے والے فضائی اور راکٹ حملوں میں 20 بچوں سمیت کم از کم 77 عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

قیاس ہے کہ سرکاری افواج زمینی کارروائی کی تیاری کر رہی ہے۔ بمباری کو روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے ایک اہلکار نے کہا ہے کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خیال رہے کہ مشرقی غوطہ کا علاقہ 2013 سے محاصرے میں ہے اور یہاں تقریبا چار لاکھ افراد مقیم ہیں۔

یہ دارالحکومت دمشق کے قریب حکومت مخالف باغیوں کے زیرانتظام آخری محصور علاقہ ہے۔ رواں ماہ کے آغاز میں شامی افواج نے اس علاقے کا انتظام دوبارہ حاصل کرنے کے لیے کارروائیوں میں تیزی کی تھی جس میں مبینہ طور پر سینکڑوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے باعث اس علاقے میں عام شہریوں کو سامان پہنچانے کے لیے جنگ بندی بھی ہوئی تھی۔

دوسری جانب ترکی نے خبردار کیا ہے کہ شامی حکومت شمالی شام میں کردوں کے خلاف لڑنے والے ترک افواج کی مدد نہ کریں۔ غوطہ میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں برطانیہ میں قائم تنظیم سیریئن اوبزرویٹری نے مطلع کیا ہے اور اس کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

 

 

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں