امریکہ میں ذہنی تناﺅ کے شکار افراد کی تعداد 4 کروڑ سے تجاوز کر گئی

واشنگٹن: امریکہ میں ذہنی تناﺅ سب سے بڑی دماغی بیماری بن گئی۔ جس کے شکار افراد کی تعداد 4 کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔

امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق متعلقہ حکام کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکہ میں ذہنی تناؤ کی بیماری سب سے بڑی بیماری بن گئی ہے جو کہ دن بہ دن خطرناک شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر جلد از جلد اس بیماری پر کنٹرول نہ کیا گیا تو بہت نقصان کا سامنا ہو سکتا ہے۔

 

دماغ کی کارکردگی کے حوالے سے مرتب کردہ ایک رپورٹ کے مطابق انسان اپنے دماغ کو جتنا زیادہ اور تیزی سے استعمال کرے گا اسے اتنی ہی زیادہ چھٹیوں کی ضرروت بھی ہوگی۔

 

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صحت مند زندگی گزارنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان خود کو تناؤ سے بچائے اور ذہن کو پرسکون رکھے۔

 

ایک رپورٹ کے مطابق امریکا میں اس وقت ذہنی تناؤ سب سے بڑی دماغی بیماری بن چکی ہے،جس کے شکار افراد کی تعداد 4 کروڑ سے زائد ہے۔

 

ہیلتھ ماہرین کا کہنا ہے کہ ذہنی تناؤ بہت بُری بیماری ہے یہ سب سے زیادہ آرام کی کمی کیوجہ سے پیدا ہو تی ہے۔ ذہنی تناﺅ سے بچنے کیلئے پرسکون نیند ضروری ہے۔

 

ماہرین کے مطابق نیند دراصل دماغ کی صفائی ہوتی ہے اس کے علاوہ تناؤ سے بچنے کے لئے خود کو ایک خاص مقام سے باہر لے کر جانا، ورزش کرنا، کتابیں پڑھنا اور پسندیدہ کام کرنا ضروری ہیں۔

 

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں