اٹارنی جنرل انور منصور اپنے عہدے سے مستعفی

اٹارنی جنرل انور منصور اپنے عہدے سے مستعفی

اسلام آباد:پاکستان کے اٹارنی جنرل انور منصور اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ۔


ترجمان وزارت قانون کے مطابق اٹارنی جنرل انور منصور کو حکومت کی جانب سے استعفی دینے کا کہا گیا تھا۔انور منصور خان نے اپنے استعفے میں مؤقف اپنایا کہ پاکستان بار کونسل نے میرے استعفے کا مطالبہ کیا تھا، افسوس ہے کہ جس بار کونسل کا چیئرمین ہوں اس نے استعفیٰ مانگا۔

انورمنصور نے بتایا کہ پاکستان بار کے مطالبے پر استعفیٰ دے رہا ہوں اور ان کے ساتھ مزید کام نہیں کروں گا۔اٹارنی جنرل انورمنصور خان نے پیر کو جسٹس فائز عیسیٰ کیس میں دلائل شروع کرتے ہوئے سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے 10 رکنی لارجر بنچ میں شامل ججز پر الزام لگایا کہ انہوں نے صدارتی ریفرنس کے خلاف مقدمے کی تیاری میں جسٹس فائز عیسیٰ کی مدد کی ہے اور انہیں مشورے دیے ہیں۔

سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل انورمنصور خان کے الزامات کو بلاجواز اور انتہائی سنگین‘ قرار دیا۔ عدالت نے میڈیا کو بھی اس بیان کی رپورٹنگ سے روکتے ہوئے شائع کرنے سے منع کردیا۔

سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ وہ بینچ سے متعلق اپنے بیان پر یا تو ثبوت پیش کریں یا معافی مانگیں۔

پاکستان بار کونسل نے بھی متنازع بیان پر اٹارنی جنرل انور منصور اور وزیر قانون فروغ نسیم کے خلاف سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کردی تھی۔

بار کونسل نے درخواست میں اٹارنی جنرل کی طرف سے ججز پر لگائے گئے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل کے الزام سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ ججز کی جاسوسی کا عمل اب بھی جاری ہے، اٹارنی جنرل نے جان بوجھ کرکھلی عدالت میں یہ بات کہی۔