معذور ہوں لیکن مر کر بھی بیٹے کو انصاف دلواؤں گی:والدہ ذیشان جاوید

معذور ہوں لیکن مر کر بھی بیٹے کو انصاف دلواؤں گی:والدہ ذیشان جاوید
سکرین شاٹ

لاہور:سانحہ ساہیوال میں سی ٹی ڈی کے ہاتھوں قتل ہونے والے ذیشان جاوید کی والدہ نے کہا ہے کہ انصاف چاہیے، معذور ہوں لیکن مر کر بھی بیٹے کو انصاف دلواؤں گی۔


ذرائع کے مطابق گزشتہ روز ہیوال میں سی ٹی ڈی کے ہاتھوں جعلی مقابلے میں جاں بحق ہونے والے ذیشان جاوید کی والدہ نے کہا کہ میرا بیٹا دہشت گرد نہیں، ایک تو مار دیا اوپر سے دہشت گردی کا الزام لگا رہے ہیں، انصاف چاہیے، معزور ہوں لیکن مر کر بھی بیٹے کو انصاف دلواؤں گی۔ذیشان جاوید کی بیٹی کا کہنا تھا کہ پاپا انکل کے ساتھ گاؤں گئے تھے۔

اہل محلہ نے انکشاف کیا ہے کہ مقتول ذیشان جاوید انتہائی شریف اور پانچ وقت کا نمازی تھا ،اس کا کمپیوٹر کا کاروبار تھا۔اہل محلہ کا کہنا تھا کہ مقتول ذیشان انتہائی شریف اور دھیمے مزاج کا آدمی تھا ،وہ نہ تو دہشت گرد تھا اور نہ ہی کبھی وہ دہشت گردوں کا ساتھی تھا ،علاقے کا ہر آدمی ان کو جانتا تھا ،اس کا باپ انتقال کر چکا تھا جبکہ اس کی والدہ بیمار اور ٹانگوں سے معذور ہے۔

اہل محلہ کا کہنا تھا کہ مقتول ذیشان کااس محلے میں ذاتی گھر تھا جبکہ اس کا چھوٹا بھائی ایک سال پہلے پولیس میں بھرتی ہوا تھا ،اگر ذیشان دہشت گرد تھا تو پھر اس کا بھائی ڈولفن پولیس میں کیسے بھرتی ہو گیا ؟۔اہل محلہ کا کہنا تھا کہ پولیس اور سی ٹی ڈی اہلکار زیشان کے بارے میں جھوٹ بول رہے ہیں۔