قومی اسمبلی میں واپسی یا پھر مکمل استعفے، پی ٹی آئی کی اگلے اقدام کیلئے مشاورت

قومی اسمبلی میں واپسی یا پھر مکمل استعفے، پی ٹی آئی کی اگلے اقدام کیلئے مشاورت

اسلام آباد (شیراز احمد شیرازی) قومی اسمبلی میں واپسی یا پھر مکمل استعفے، پاکستان تحریک انصاف کے اگلے اقدم کیلئے مشاورت کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے اور عمران خان کی نااہلی اور پارٹی چیئرمین شپ سے ہٹانے کے ممکنہ اقدام سے نمٹنے کی حکمت عملی تیار کرنے پر بھی غور جاری ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی جانب سے پی ٹی آئی کے مزید 35 ارکان قومی اسمبلی کے استعفے منظور کئے جانے کے بعد پی ٹی آئی قیادت سر جوڑ کر بیٹھ گئی ہے کہ قومی اسمبلی میں باقی نشستیں کیسے بچائی جائیں، اور اس کے علاوہ 27 جنوری کو قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت پر اتفاق بھی کیا گیا ہے۔ 

ذرائع کا کہنا ہے پی ٹی آئی نگران حکومت کی تشکیل میں موثر کردار کرنے کی خواہاں ہے اور پارٹی قائدین کی رائے ہے کہ ملک کی مقبول جماعت کو اہم ترین عمل سے دور رکھنا جمہوریت کے منافی ہے۔ پی ٹی آئی قائدین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سپیکر سے رابطہ کرنے کے بجائے براہ راست اجلاس میں شرکت کی جائے۔ 

پی ٹی آئی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی کے 27 جنوری کو ہونے والے اجلاس میں شرکت کے بعد سپیکر راجہ پرویز اشرف سے رابطہ کر کے اپوزیشن لیڈر کا عہدہ دینے کا مطالبہ بھی کیا جائے گا۔ 

پی ٹی آئی قائدین کے درمیان عمران خان کی نااہلی اور پارٹی چیئرمین شپ سے ہٹانے کے ممکنہ اقدام سے نمٹنے کی حکمت عملی تیار کرنے پر بھی غور کیا گیا اور سینئر قیادت نے عمران خان کو کارنر کرنے کے ہر حربے کو ناکام بنانے کا فیصلہ کیا۔ 

عمران خان کی سربراہی کو برقرار رکھنے کیلئے پارٹی کے تنظیمی ڈھانچہ تبدیل کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا اور اس مقصد کیلئے جنرل کونسل کی منظوری کے بعد پارٹی آئین میں ردوبدل کیا جائے گا۔ 

مصنف کے بارے میں