ماسکو: روسی میڈیا کے مطابق صدر ولادی میر پیوٹن نے اپنی صحت کو بہتر بنانے کے لیے ایک خاص نسل کے سرخ ہرن کے سینگوں سے کشید کیے گئے خون سے غسل کیا ہے۔ گزشتہ برس التائی کے پہاڑی سلسلے کے دورے سے قبل ہرن کے 70 کلو گرام سینگ تیار کیے گئے تھے جن کے خون میں روسی صدر نے غسل کیا۔

روس میں قدیم زمانے میں جسمانی توانائی کی بحالی کیلئے اس طرح کے نسخوں کا استعمال عام تھا۔ دوسری جانب روس میں جانوروں کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیموں نے بغیر بے ہوش کیے ہرن کے سینگوں سے خون نکالنے کو انتہائی سفاکانہ عمل قرار دیا ہے۔

 

یاد رہے روسی صدر ولادی میر پیوٹن کا شمار جہاں دنیا کے طاقتور ترین رہنماﺅں میں ہوتا ہے وہیں انہیں ایک انتہائی پراسرار شخصیت بھی قرار دیا جاتا ہے۔ انہوں نے 1970ءمیں لینن گراڈ یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور پانچ سال بعد قانون کی ڈگری حاصل کی۔ 22 سال کی عمر میں وہ روسی خفیہ ایجنسی کے جی بی میں بھرتی ہوئے اور اگلے 16 سال تک اس ایجنسی میں فرائض سرانجام دیتے رہے۔ وہ کے جی بی میں اپنے عہدے کو ”ہیومن ریلیشنز سپیشلسٹ“ کا نام دیتے تھے لیکن درحقیقت وہ کیا کرتے تھے یہ کسی کو معلوم نہیں۔

پیوٹن کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ بہت مضبوط اعصاب کے مالک ہیں اور پر تشدد حالات سے بالکل نہیں گھبراتے جبکہ بد ترین حالات میں بھی اپنے حواس پر قابو رکھتے ہیں۔ وہ لوگوں کو کنٹرول کرنے کے فن میں بھی مہارت رکھتے ہے۔ انہیں خصوصیات کی بنا پر وہ روسی خفیہ ایجنسی میں تیزی سے ترقی پاتے گئے۔ پیوٹن کو جاسوسی کے لئے جرمنی بھی بھیجا گیا جہاں پانچ سال تک جاسوسی کرنے کے بعد وہ 1989ء میں روس واپس آئے اور ایک دفعہ پھر علمی شعبے سے وابستہ ہو گئے۔ انہوں نے اپنے پی ایچ ڈی کے تھیسز میں یہ تجویز دی کہ روس کو معاشی کامیابی کے لئے اپنے توانائی ذرائع کو بروئے کار لانا ہو گا۔

یونیورسٹی سے فراغت کے بعد انہوں نے سیاست کا رخ کیا اور اس میدان میں بھی حیران کن کامیابی حاصل کی۔ 1999ء میں صدر بورس ییلسن نے ولادی میر پیوٹن کو وزیراعظم منتخب کیا۔ اس کے بعد وہ دو دفعہ صدر منتخب ہوئے جبکہ ایک دفعہ وزیراعظم کے طور پر فرائض سرانجام دئیے اور اس کے بعد تیسری بار صدر منتخب ہو گئے۔

 

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں