دوحہ: قطر کی جانب سے روز بروز ایسے موقف سامنے آ رہے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ بدحواسی اور متضاد بیانات کے چکّر میں پھنس چکا ہے۔ اس سلسلے میں تازہ ترین دوحہ کا یہ اعتراف ہے کہ وہ یمن میں آئینی حکومت کی واپسی کے لیے تشکیل دیے گئے عرب اتحاد میں شمولیت پر دھچکے اور افسوس کا شکار تھا۔

یہ اس بات کی جانب واضح اشارہ ہے کہ قطر شروع سے ہی یمن میں عرب اتحاد کے خلاف تھا۔میڈیارپورٹس کے مطابق دوحہ کا یہ موقف قطر کے وزیر مملکت برائے دفاعی امور خالد بن محمد العطیہ کے انٹرویو میں سامنے آیا ، قطر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق العطیہ نے اپنی گفتگو میں اس امر کا حوالہ دیا کہ قطر کی فوج نے یمن کے اندر کارروائیوں میں حصّہ نہیں لیا بلکہ محض سعودی عرب اور یمن کی سرحد پر موجود رہنے پر اکتفا کیا ۔

اس بات سے یمن میں عرب اتحاد کی قیادت کے اس فیصلے کی تصدیق ہوتی ہے جس کے مطابق دہشت گردی کو مضبوط کرنے والے اقدامات اور یمن میں باغی ملیشیاؤں کے ساتھ معاملات پر عرب اتحاد میں قطر کی شرکت کو ختم کر دیا گیا تھا۔

سعودی عرب کی سرحد پر تقریبا ایک ہزار فوجی اہل کاروں کے ساتھ قطر کی محدود شرکت محض علامتی نوعیت کی تھی کیوں کہ وہ یمن میں اپنے دہشت گرد حلیفوں کے خاتمے میں سنجیدہ نہیں تھا۔ یہ بات قطعی طور پر ثابت ہو چکی ہے کہ دوحہ کی جانب سے اپنی فلاحی تنظیموں اور سوسائٹیوں کے ذریعے یمن میں باغیوں کے لیے اعلانیہ اور خفیہ طور پر فنڈنگ اور سپورٹ کا سلسلہ جاری تھا۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں