نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ دنیا میں پن بجلی کی پیداوار کا جدید اور منفرد منصوبہ

مظفرآباد:صدرآزادجموں وکشمیر سردارمحمد مسعود خان نے نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کو دنیا میں پن بجلی کی پیداوار کا جدید اور منفرد منصوبہ قرار دیتے ہوئے پراجیکٹ ڈائریکٹر برگیڈیئر (ر) زرین کی بریفنگ کو جامع اور بہترین قرار دیا ہے ۔ صدر آزاد کشمیر نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ منصوبہ زیر زمین ہونے کی وجہ سے ماحولیاتی توازن برقرار رہے گا۔

جنگلات نباتات اور قدرتی چشموں پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے کی تکمیل پر ملازمتوں میں مقامی لوگوں کو ترجیح دی جائے اور جن لوگوں کی زمینیں اور کاروبار وغیرہ متاثر ہوئے ہیں اُن کی ہرقسم کی مدد کرنی چاہیے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز منصوبے کے معائینے اور پراجیکٹ ڈائریکٹر برگیڈئیر (ر) محمد زرین کی طرف سے تفصیلی بریفنگ کے موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کیا ۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ یہ پن بجلی کی پیداوار کا بڑا منصوبہ ہے جس سے پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے اور لوڈ شیڈنگ میں کمی میں بڑی حد تک مدد ملے گی ۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ اس عظیم منصوبے کے فوائد مساوی اور منصفانہ طور

پرریاست آزاد کشمیر کو بھی ملنے چاہیں۔ اور ہمیں اُمید ہے یہاں کی بجلی کی ضروریات پورا کرنے کو اولین ترجیح دی جائے گی۔

قبل ازیں صدر آزاد کشمیر کو بریفنگ دیتے ہوئے برگیڈیئر (ر) محمد زرین نے بتایا کہ نیلم جہلم ہاہیڈرو پاور پراجیکٹ کا ابتدائی منصوبہ 2002یعنی اکتوبر 2005کے زلزلے سے پہلے بنایا گیا تھا۔ اسی بنیاد پر اُ س کا تخمینہ لاگت بھی کم تھا ۔ لیکن زلزلے کے بعد ماہرین ارضیات کے مطابق ڈیم کے مقام نوسیری سے ایک فالٹ لائن گزر رہی ہے۔ اس لئے ڈیم کے ڈیزائن میں8شدت کا زلزلہ برداشت کرنے کی صلاحیت رکھنے کے حوالے سے بنیادی تبدیلیاں کی گئیں ۔

پہلے منصوبے کے مطابق ٹینل دریائے نیلم سے دریائے جہلم تک تھا ۔ جسکی پیداواری صلاحیت بھی کم تھی ۔ بعدازاں اسے وسعت دیکر چھتر کلاس تک لایا گیا ۔ اس طرح اس منصوبے کی لاگت میں کئی گنا اضافہ ہوتا گیا ۔ انہوں نے بتایا کہ 28.5کلومیٹر طویل ٹینل مکمل ہوچکا ہے۔ جس میں 19.6کلومیٹر دوہرا ٹینل ہے۔

منصوبے پر 96فیصد کام مکمل ہوچکا ہے ۔ تین ٹربائن اور تین ٹرانسفارمر زیر زمین پاو ر ہائوس میں نصب ہوچکے ہیں ۔ پہلی ٹربائن سے بجلی کی پیداوار آئندہ سال 28فروری سے شروع ہو جائے گی دوسری ٹربائن مارچ اور تیسری اپریل میں کام شروع کر دے گی۔ ۔ چھتر کے مقام پر پاور ہائوس تکمیل کے آخری مراحل میں ہے ۔

ٹینل گرڈ سے ملانے کیلئے پول اور اُن پر تاریں بچھائی جا چکی ہیں اور کام بھی 90فیصد سے زیادہ مکمل ہوچکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے سے سالانہ 5.150بلین یونٹ بجلی پیدا ہوگی۔ ابتدائی طور پر اس میں سالانہ ریونیو 55ارب روپے ہوگا۔ تاہم اس میں آئندہ برسوں کے دوران اضافہ ہوتا جائے گا۔

اس منصوبے کی بدولت کئی ٹیکنالوجیز پہلی مرتبہ پاکستان میں متعارف ہوئی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرے گا۔ آزاد کشمیر میں بھی روزگار کے مواقع پیدا ہونگے۔ اور معاشی سرگرمیاں بڑھیں گی ۔ صدر آزاد کشمیر نے منصوبے کے مختلف حصے دیکھے اور زیر زمین پاور ہائوس کو فنی مہارت اور جدید ٹیکنالوجی کا شہکار قرار دیا۔