13 مطالبات نہیں، چھ وسیع اصولوں پر عمل چاہتے ہیں:عرب ممالک

ابو ظہبی:قطر سے بائیکاٹ کیے ہوئے خلیجی ممالک نے سعودی عرب کی قیادت میں گذشتہ ماہ پیش کیے جانے والے 13 مطالبات پر مزید اصرار کرنے اور انہی پرڈٹ جانے کی بجائے نرمی کا راستہ اختیار کرتے ہوئے چھ وسیع اصول پیش کر دئیے ہیں۔
اقوام متحدہ میں سعودی عرب سمیت متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر کے سفارتکاروں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ اب وہ ان 13 مطالبات کی بجائے چھ وسیع اصولوں پر عمل چاہتے ہیں۔ان چھ مطالبات میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف مقابلہ کرنے کے عزم اور ان کی ترغیب دینے کو روکنا شامل ہیں ۔
سعودی عرب کے مستقل نمائندے عبداللہ ال معلمی نے اس موقع پر کہا کہ ’ہمارے وزرا خارجہ نے پانچ جولائی کو قائرہ میں ملاقات کے دوران ان چھ اصولوں پر اتفاق کیا جو کے قطریوں کے لیے قبول کرنا آسان ہیں۔ چار عرب ممالک کے سفارتکاروں کا کہنا تھا کہ وہ اس بحران کو دوستانہ انداز میں حل کرنا چاتے تھے۔
تاہم عرب ممالک کے اس بیان کے بعد اس حوالے سے تاحال قطر کی جانب سے کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ قطر اس سے قبل اپنے اوپر لگے تمام الزامات کو مسترد کر نے کیساتھ ساتھ اس بات سے انکاری رہا ہے کہ اس نے کبھی بھی انٹر نیشنل قوانین کی خلاف ورزی نہیں کی۔