لاہور : اردو کے نامور صوفی منش شاعر ساغر صدیقی کی آج 43ویں برسی ہے وہ 20جولائی 1974ء کو انتہائی کسمپرسی کی حالت میں خالق حقیقی سے جا ملے تھے ۔

ساغر صدیقی امرتسر سے ہجرت کر کے لاہور آئے تھے اور کہا جاتا ہے کہ کسی دورمیں ساغر صدیقی خوش پوش نوجوان بھی ہوا کرتے تھے لیکن ہجرت کے بعد کسی سانحہ نے انہیں عدم بیزار کیا کہ انہوں نے دنیا سے جوگ ہی لے لیا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ساغر صدیقی نے تقسیم ہند کی اموات کو ایک حساس انسان ہونے کی وجہ سے بہت الگ طرح سے محسوس کیا تھا۔


غربت ٗ ڈپریشن ٗ ٹینشن کی وجہ سے ساغر صدیقی کے آخری چند سال نشے میں ڈوبے ہوئے گزرے ۔ وہ بھیک مانگ کر گزارہ کیا کرتے تھے ٗ گلیوں میں فٹ پاتھ پر سویا کرتے تھے اور صرف شاعری لکھا کرتے تھے۔ ان کے مطابق

ساغر کی زندگی پر کچھ تبصرہ نہ کیجئے

اک شمع جل رہی ہے سر رہ گذار زیست