بھارتی عدالت نے واٹس ایپ دستاویز مسترد کر دی

نئی دہلی : بھارتی عدالت نے مقدمے کی سماعت میں واٹس ایپ کے ذریعے شیئر ہونے والی دستاویزات کو مسترد کر دیا، اور کہا کہ واٹس ایپ دستاویزات شواہد نہیں ہوتیں جب تک کہ اصل دستیاب نہ ہو۔

نئی دہلی : بھارتی عدالت نے مقدمے کی سماعت میں واٹس ایپ کے ذریعے شیئر ہونے والی دستاویزات کو مسترد کر دیا، اور کہا کہ واٹس ایپ دستاویزات شواہد نہیں ہوتیں جب تک کہ اصل دستیاب نہ ہو۔
بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی جج جسٹس سنجیو سچ دیوا نے اپنا یہ بیان اس درخواست پر دیا جس میں سابق وزیر اعلیٰ اروناچل پردیش کالیکھو پل کے ایک مبینہ خودکشی کے خط کے تناظر میں ایک ایف آئی آر درج کرنے کےلئے تین ریاستو ں بشمول اروناچل پردیش، وہاں کی پولیس اور سی بی آئی کواحکامات جاری کرنے کےلئے کہا گیا تھا۔
عدالت نے درخواست گزاروں سے ان کی معلومات کے ذرائع کے حوالے سے پوچھا جس پر درخواست گزاروں کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ معلومات واٹس ایپ پوسٹ کے ذریعے حاصل کی جس پر عدالت کا کہناتھا کہ نا تو یہ بتایا گیا ہے کہ واٹس ایپ پوسٹ کس نے تیار کی اور نہ یہ کہ کس درخواست گزار کو یہ پوسٹ موصول ہوئی، اس لئے واٹس ایپ پر شیئر ہونے والی دستاویزات شواہد نہیں ہوتیں جب تک کہ اصل دستیاب نہ ہو۔