جس تھالی میں کھایا، اُسی میں چھید کیا۔۔۔

جس تھالی میں کھایا، اُسی میں چھید کیا۔۔۔

آج کل جدھر دیکھو، جس کو دیکھو، وہ اداروں ،خصوصاً عدلیہ اور فوج کے خلاف زہر فشانی کرتا دکھائی دیتا ہے۔ خصوصاً ایک سیاسی جماعت اس بیانیے کو اپنے ذاتی مفاد کی تقویت کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کرتی نظر آتی ہے۔

پاکستان میں اداروں کو بدنام کرنے کی روش اختیار کرنا غالباً سب سے زیادہ سہل اور موثر طریق ہے شہرت اور مقبولیت حاصل کرنے کے لئے، کیونکہ اس میں آپ اپنی انا کی خوشنودی حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی سیاسی دوکان بھی چمکا سکتے ہیں، اوپر سونے پر سہاگہ نیوز میڈیا بالکل مفت میں آپ کی تشہیری مہم چلاتا ہے، وہ بھی آپ کی من پسند ٹائم سلاٹ میں، وہ کہتے ہیں نا کے بدنام نہ ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا۔

ایسے لوگ اپنی تشہیری مہم کے دوران الزامات لگاتے ہوئے اس قدر آگے بڑھ جاتے ہیں کہ انہیں اپنے ملک کا مفاد اور اپنے لوگوں کے تحفظ کا خیال بھی نہیں رہتا۔ جبکہ ایسی صورت حال کا فائدہ دشمن اور غیر ملکی طاقتیں اٹھاتی ہیں۔ وہ ان کے غلط اور فہمائشی جذبات کو ہوا دیتے ہیں اور اس میں اپنا بیانیہ بھی شامل کرتے ہیں، جو بد قسمتی سے ایسے نا معقول لوگ بعد میں اپنا کر درِپردہ غداری کے مرتکب ہوتے ہیں۔

کچھ عرصہ پہلے ان نا ہنجار لوگوں کو سرحدی باڑ سے تکلیف تھی، تو آج ان ہی کی طرح کے لوگ پاکستان کی انتخابی سرگرمی پر طرح طرح کے سوالات اٹھا رہے ہیں، اور خواہ مخواہ معتبر اور اہم ترین قومی اداروں کو اس میں ملوث کر نے کی مذموم سازش رچانے کی کوشش میں سرگرداں ہیں۔ شاید ان کو اپنی چوری، اپنے عیوب کے افشاء ہونے کا ڈر ہے، یا شاید وہ اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کے اُن کے نادیدہ "آقا" کا اُن پر ہاتھ ہے، اور عوام اُن کی بھیرویں کو قبول کر لیں گے۔

لیکن، اب حالات بدلتے نظر آ رہے ہیں۔ ایسے دوغلے اور منافق لوگوں کی حیثیت ثانوی ہوتی جا رہی ہے، عوام کا شعور آہستہ آہستہ بیدار ہو رہا ہے۔ وہ ان لوگوں کے نظریے کو منطقی انداز میں پرکھتے ہیں اور ان کے افکار کی گہرائی اور اسکے پیچھے چھپے سچ کو تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

آزاد ذرائع ابلاغ یعنی جالبین اور سماجی رابطوں کے مواقع جال کے استعمال سے لوگوں کا ایک دوسرے سے بحث مباحثہ لگا رہتا ہے، جسکے کافی مثبت اثرات مرتب بھی ہو رہے ہیں۔ لوگوں میں سوال کرنے کی جھجک خرم ہو رہی ہے، لوگ اپنے حقوق کی آواز مختلف پیمانے پر اٹھانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، اسکی وجہ سے اب عوامی نمائندے اپنے لوگوں کو ماضی سے زیادہ جوابدہ محسوس کرتے ہیں۔اُن کو ہر وقت دھڑکا لگا رہتا ہے کی اُن کے کسی نا اہلی یا سستی کی صورت میں اسکی خبر فوراً عوام کو ہو جائے گی۔

بہرحال یہ بحثیں تو جاری ہی رہتی ہیں اور کسی کے بولنے پر قدغن لگانا بھی تقریباً ناممکن ہے۔ لوگ پرپگینڈہ کرتے رہتے ہیں اور خود ساختہ جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کی تگ و دو میں لگے رہتے ہیں۔ عوام کو چاہیئے کے وہ حقائق کو جانچ کر صحیح فیصلہ کریں، قومی ادارے قوم کے لئے ہی قائم کئے گئے ہیں، ہمیں ان پر بھروسہ رکھنا چاہیئے، اور سب سے پہلے ان کو اپنا کام کرنے دینا چاہیئے۔ عوام کو ایسے لوگوں اور ان کی محرکات سے بچنا چاہیئے بلکہ رد کرنا چاہیئے جو اپنے ذاتی مفاد کو مجموعی مفاد پر تقویت دیتے ہیں۔

 شہروز کلیم

(ادارے کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں)