آپ بھی اپنی ”لو جکس“ کلیئر کریں

Shakeel Amjad Sadiq, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan

ایک دیہاتی لڑکا شہر میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے گیا۔جب بھی شہر میں جا کر یا بڑے شہر میں جاکر تعلیم حاصل کرنے کی بات ہوتی ہے یا ذکر میرے کانوں کو گدگداتا ہے تو مجھے اسلم کولسری کا شعر فوراً مجھے اداس اور مضمحل کر تا ہے۔بقول اسلم کولسری:

شہر میں آکر پڑھنے والے بھول گئے

کس کی ماں نے کتنا زیور بیچا تھا

وہ لڑکا شہر سے پڑھ لکھ کر واپس دیہات گیا تو گاؤں کے چودھری صاحب نے بڑے جلے کٹے انداز میں سوال کیا کہ پتر پڑھنے لکھنے کا کیا فائدہ ہے؟ …… لڑکا: چودھری صاحب پڑھنے لکھنے سے ”لوجکس“ کلیئر ہو جاتی ہیں …… چودھری صاحب: یہ ”لوجکس“ کیا ہوتی ہیں؟…… لڑکا: ”لوجکس“ منطق کو کہتے ہیں …… چودھری صاحب: یہ منطق کیا ہوتی ہے…… لڑکا: میں سمجھاتا ہوں آپ کو…… لڑکا: چودھری صاحب آپ کے گھر میں کتا ہے…… چودھری صاحب: ہاں ہے…… لڑکا: اس کا مطلب آپ کا گھر بڑا ہو گا؟ (جس کی حفاظت کے لیے کتا رکھاہوا ہے) …… چودھری صاحب:ہاں گھر تو بڑا ہے …… لڑکا: پھر آپ کے ہاں نوکر چاکر بھی کافی ہوں گے؟ (بڑے گھر کی دیکھ بھال کے لیے) …… چودھری صاحب: ہاں جی نوکر بھی کافی ہیں …… لڑکا: اس کا مطلب آپ کی آمدنی بھی اچھی خاصی ہو گی؟ (نوکروں کی تنخواہ کی ادائیگی کے لیے) …… چودھری صاحب: ہاں جی آمدنی بھی اچھی خاصی ہے…… لڑکا: اس کا مطلب آپ کی ماں کی دعائیں آپ کے ساتھ ہیں۔ اور آپ کی ماں کی دعائیں آپ کے حق میں قبول بھی ہوئیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ کی ماں ایک نیک عورت تھی…… چودھری: بس اب میں سمجھ گیا کہ پڑھنے لکھنے سے ”لوجکس“ کیسے کلیئر ہوتی ہے۔

اگلے دن شیدا چودھری صاحب کی ٹانگیں دباتے ہوئے بولا چودھری صاحب یہ جو لڑکا شہر سے پڑھ لکھ کر گاؤں میں آیا ہے۔ اس کو پڑھنے لکھنے کا کیا فائدہ ہوا؟ چودھری صاحب شیدے، پڑھنے لکھنے سے ”لوجکس“ کلیئر ہو جاتی ہے۔ 

شیدا: چودھری صاحب یہ ”لوجکس“ کیا ہوتی ہیں؟ 

چودھری! لوجکس منطق کو کہتے ہیں۔ 

شیدا! یہ منطق کیا ہوتی ہے؟ 

چودھری: میں سمجھاتا ہوں تم کو 

چودھری صاحب! تمہارے گھر میں کتا ہے؟ 

شیدا! نہیں چودھری صاحب،  میرے گھر میں کتا نہیں ہے۔ 

چودھری صاحب اس کا مطلب تمہاری ماں کوئی نیک عورت نہیں تھی۔ چودھری صاحب نے ایک منٹ میں لوجکس کلیئر کر کے حقے کی نڑی اپنے منہ لی اور سوٹے پے سوٹا لگانے لگا۔

چودھری صاحب کی طرح میری لوجکس بھی ایک منٹ میں کلیئر ہوگئی ہیں۔میرا خیال ہے کہ اس کالم کو پڑھ کر آپ کی لوجکس بھی ایک منٹ میں کلیئر ہو جائیں گی۔یہ ملک صرف اور صرف امیروں اور سرمایہ داروں کا ہے۔یہ ملک صرف اور صرف کرپٹ لوگوں کا ملک ہیں۔غریب اور متوسط طبقے کے لوگوں کو یہاں عزت اور احترام سے جینے کا کوئی حق نہیں۔یہ ملک سیاستدانوں،جرنیلوں،ججوں اور بیوروکریٹس کا ہے۔یہاں مزدوروں اور ملازم پیشہ لوگوں کی کوئی اوقات نہیں۔ اگر مہنگائی اور غربت کی یہی صورت حال رہی تو مزدور طبقہ ایک دن سولی پر جھول جائے گا۔جس ملک میں روزانہ کی بنیادوں پر مہنگائی ہو اور مہینے میں دو بار پٹرول کی قیمتوں اضافہ ہو وہاں کی عوام غریب سے غریب تر ہوتی جاتی ہے۔مذہب اپنی قدریں کھو دیتا ہے۔رشوت،لوٹ مار،بے ایمانی،غارت گری اس معاشرے کا مقدر بن جاتی ہے۔اس معاشرے سے غیرت اور حیا اٹھ جاتی ہے۔لوگ پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے اپنی عزت نفس مجروح کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی غیرتوں کا جنازہ بھی نکال دیتے ہیں اور معاشرے میں بے حیائی اور فحاشی پھیلانے کا سبب بنتے ہیں۔قارئین یہ وہ منطق ہے جس سے آپ سرِمو انحراف نہیں کریں گے بلکہ حرف آخر کی طرح میری بات پر لبیک کہیں گے۔دوسری منطق کھیل اور سیاست میں زمین آسمان کا فرق ہے۔یہ دونوں عمل زندگی کے کسی افق پر ملتے ہوئے نظر نہیں آتے۔بقول جگرمراد آبادی

یہ عشق نہیں آساں بس اتنا سمجھ لیجیے

ایک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کر جانا ہے

جو حکمران لاء اینڈ آرڈر کی صورت حال کو بہتر کرنے کے ساتھ ساتھ ملک میں آئین،قانون اور نظم و ضبط کی پابند جیسی صورت حال کو بہتر نہ کر سکے وہ حکمران صرف کرکٹ کھیل سکتا ہے یا سوشل ورکر ہو سکتا ہے۔ باتوں کے پہاڑ کھڑے کرسکتا ہے۔ یوٹرن لے سکتا ہے۔ مافیاز سے بلیک میل ہو سکتا ہے اور کانوں میں تیل ڈال کر باقی ماندہ حکومتی دن پورے کرنے کے درپے ہے۔جو وزیراعلیٰ غریب ملازمین اور نمانے اساتذہ کے سپیشل الاؤنس اور دس فیصد ایڈہاک ریلیف کا اعلان کرتا ہے مگر بیوروکریسی اس کے حکم کو ہوا میں اڑا دیتی ہے۔تو اس حکمران کے لیے عید قرباں کے موقع پر خود قربان ہونے کا مقام ہے۔حیرت ہے نئی حکومت کو تین سال ہو گئے ہیں۔۔مہنگائی میں سیکڑوں فیصد اضافہ ہوا۔ ضروریات زندگی کی ہرشے آسمانوں سے باتیں کرنے لگی مگر غریب ملازم تین سال پرانی تنخواہ میں لہو کے گھونٹ پی رہا ہے۔ بقول مرزا اسد اللہ خاں غالب:

ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن

خاک ہوجائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک

ملک عزیز میں غربت اور ابتری کی صورت حال خدا کی طرف سے پیدا کردہ نہیں ہے۔یہ وبال قدرت کا پیدا کردہ نہیں ہے۔ملک کی ارتقائی صورت حال سے لے کر اب تک ملکی تباہی اور ملکی زوال کی ذمہ دار ہماری حکومتیں ہیں۔جنہوں نے اقربا پروری،مافیاز کا تحفظ،سرمایہ داروں کی پشت پناہی،ملکی آئین و قوانین کی پامالی،ناانصافی کی ترویج اور جمہوریت میں ملوکیت کو سر عام رواج دے کر غریب عوام کا لقمہ تک بھی چھین لیا۔عزیز قارئین اب آپ کی ”لوجکس“بھی کلیئر ہو گئی ہوگی بقول پروفیسر محمد حامد

تجھ تک آتے رہ جاتی ہے

رستہ پاتے رہ جاتی ہے

اپنے دل کی ہر ہر خواہش 

ہنستے گاتے رہ جاتی ہے