امکان کا کھلواڑ اور ڈھٹائی کا راج

Asif Anayat, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan

دو دہائی سے زائد قبل میرے ایک دوست جو میرے پاس اکثر آیا کرتے تھے، نے کہا کہ بھائی جان آپ لوگوں سے فی بندہ 500 روپے لیں اور امریکہ یا کسی ملک کا ویزہ لگوانے کے لیے بات کریں۔ حیران ہو کر میں نے اس سے پوچھا وہ کیوں؟ اس نے کہا اس طرح ہزاروں لوگ آپ کے پاس ویزے کے لیے پاسپورٹ اور 500 روپے فی بندہ جمع کرا دیں گے۔بندے میں لاؤں گا۔ لاکھوں روپے اکٹھے ہوں گے میں نے کہا کہ ویزہ تو میں بنگلا دیش کا نہیں لگوا سکتا اور لوگوں کاکیابنے گا؟ اس نے کہا کہ بھائی جان دو دو سو روپے مزید لے کر صرف پاسپورٹ واپس کر دیں گے کہ ہم ویزہ نہیں لگوا سکے لہٰذا کاغذات کا خرچہ سات سو روپے ہے۔ میں نے کہا پہلوان یہ کام آپ خود کر لیں؟ اس نے کہا بھائی جان آپ پر لوگ اعتماد کرتے ہیں۔ آپ کے خاندان کی عزت ہے اور اس حوالے سے شہرت بھی کہ آپ اعلیٰ حکام تک رسائی رکھتے ہیں۔ کسی کو شک نہیں ہو گا کہ یہ بے بنیاد بات تھی آپ کے ابا جی جناب حاجی عنایت اللہ شہزادہ صاحب اور پاء جی اعظم صاحب کا دستر خوان بھی وسیع ہے لہٰذا 5/7 سو روپے کی کوئی پروا نہیں کر سکتا۔ میں پہلوان کی بات سن کر حیران ہوا اور کہا کہ اگر ہم یہ کام کرتے ہیں اور لوگوں کا اعتماد کھو دیتے ہیں جبکہ اعتماد ہی انسان کا حاصل زندگی ہے۔ میں نے اس سے کہا کہ پہلوان جو شخص مجھے پیسے دے گا میرے خاندان کو مجھے دیکھ کر اس کو اعتماد ہو گا کہ یہ ویزہ لگوا دیں گے۔ اس کا بھرپور امکان ہے اور مایوسی کا سوال ہی پیدا نہیں ہو گا۔ ناکامی پر کیا جواز پیش کریں گے۔ پہلوان نے کہا کہ ان کے پرانے پاسپورٹ تو واپس کر دیں گے وہ نیا پاسپورٹ بنانے کی بجائے 700 میں اپنا پرانا پاسپورٹ واپس لینے میں ہی کامیابی سمجھے گا اور شکریہ ادا کرے گا۔ میں نے کہا پہلوان جو ہمیں پیسے دے گا وہ پھر پاکستانی موسم کے کپڑے رشتے داروں میں بانٹ دے گا اور امریکہ یا انگلینڈ کے موسم کے کپڑے بنوا لے گا۔ آخری ملاقاتیں شروع کر دے گا۔ مستقبل کا تعین کرے گا۔ خوابوں کی دنیا حقیقی دنیا پر حاوی ہو جائے گی۔ وہ اپنے آپ کو روزانہ صرف سوتے اور اٹھتے وقت پاکستان میں پائے گا مگر خواب بیرونی دنیا کے آئیں گے۔ اس کی زندگی اور خاندان کا کوئی پروگرام بھی اس کے امریکہ یا انگلینڈ جانے کے پروگرام سے خالی نہ ہو گا۔ اس کو آس امید لگ جائے گی۔ پیسے کی تو کوئی بات نہیں مگر اس کی آس، 

امید،امنگ، مستقبل کی پلاننگ اس کو سوفیصد امکان اور اطمینان ہو گا کہ زندگی میں تبدیلی آ جائے گی مگر اس کے امکان کے ساتھ کھلواڑ کون کرے؟ لہٰذا میں یہ ظلم نہیں کر سکتا۔ بھلے قوتوں کی مدد ہو تو لوگ وزیراعظم بن جاتے ہیں مگر میں کسی کے امکان سے نہیں کھیل سکتا۔ کسی کی امید اور خواب کو بھیانک تعبیر نہیں دے سکتا۔ مہربانی فرماؤ اور خود بھی زندگی میں کسی کی امید امنگ آس اور حصول مقصد کے امکان سے کھلواڑ نہ کرنا۔ پتہ ہے نہ جب مریض بستر مرگ پر ہو تو لواحقین ڈاکٹر سے اس کے بچ جانے کے امکان اور امید کی بات کرتے ہیں بُرے سے بُرا ڈاکٹر بھی دعا کا ضرور کہہ دے گا۔ 

میرے محکوم ہم وطنو! 

ہمارے حکمران طبقوں نے ہمارے خوابوں، امیدوں، آسوں، امنگوں کا کھلواڑ کیا ہے۔ انہوں نے صرف یہی نہیں اس کے امکان کو بھی فنا کے گھاٹ اتار ڈالا۔ 

گنڈا پوری اور امریشن پوری کی اولاد میں سے کوئی بھارت یا پاکستان میں حلوہ پوری کھائے شہد کی پوری بوتل پیئے ہمیں کیا فرق پڑتا ہے۔ 

بجٹ نائٹ اور بجٹ ڈے سے اب تک پٹرول 18 روپے فی لیٹر مہنگا کر دینا، اشیاء خورو نوش پہنچ سے دور ہو جانا دوسری طرف وطن کی خاطر جان اور خاندان قربان کرنے والوں کو ”معاشرتی“ حیوان ”غدار“ اور نا اہلوں کو سرکار کہیں، ریاست مدینہ میں تو امیر سے کرتے کے کپڑے کا حساب مانگا گیا تھا ان سے پہلے خلیفہ اول نے پوچھا کہ اگر میں راہ راست پر نہ رہوں تو آپ کیا کرو گے؟ سب سے کمزور بدو اُٹھ کر کہنے لگا کہ ہم تمہیں گریبان سے پکڑ کر سیدھا کر دیں گے“ (مفہوم) کیا آج امریکہ، انگلینڈ، ترکی، ملائیشیا، سنگا پور، چائنہ کے نظام ہائے مملکت کی سیر کرانے والے خواب سنانے والے ”نیو ریاست مدینہ“ کے امیر سے کوئی پوچھ سکتا ہے کہ حضور ساری زندگی میں کوئی کاروبار نہیں کیا، ہسپتال نواز شریف اور لوگوں نے بنا دیا۔ آپ سے کوئی پوچھ سکتا ہے کہ آپ کی ساری زندگی نہیں تو کم از کم حاکمیت کے دوران جوتے، کپڑے، خوراک، پوشاک، شوق، یوٹیلیٹی بلز، کہاں سے آتے ہیں۔ میڈیا کے شوقین تھے اب میڈیا کے سامنے نہیں آتے سلیکٹڈ کی ایسی لت پڑی کہ سلیکٹڈ اینکرز کے علاوہ، سلیکٹڈ سوالات اور سلیکٹڈ جوابات کے علاوہ جواب نہیں دیتے۔ حضرت ابو بکرؓ نے اپنی تنخواہ مدینہ کے مزدور جتنی رکھی۔ ذرا اپنی تنخواہ اور سہولیات پر غور فرما لیں۔ عدلیہ، بیورو کریسی اور دیگر کی تنخواہیں دیکھ لیں۔ میرٹ کی بات کرنے والے کے دور میں کہیں میرٹ نہیں۔ قانون کی بالادستی کی بات کرنے والے کے دور میں کہیں قانون کی حکمرانی نہیں۔ جب حاکم منتقم مزاج اور خود پسندی کے ساتھ خود ستائشی کا مریض ہو تو عوام کو انصاف تو در کنار ملک میں پناہ بھی نہیں مل سکتی۔ 

تبدیلی کا شاہکار دیکھیں کہ وزیراعظم کے علاوہ سب کے سب زرداری، نواز شریف، مشرف ادوار کی کاسٹ ہے۔ واحد وزیراعظم ہیں جن کے پاس فلمیں دیکھنے کا وقت ہے۔ دراصل ملک میں بھی فلم ہی چل رہی ہے۔ ارطغرل کے بعد بابر اور اس کے بعد امید کرتا ہوں کہ جنرل نیازی پر بھی فلم بنائیں گے تا کہ قوم کو مکمل آگاہی ہو سکے۔ حالات یہ ہیں کہ کارکردگی صفر، اکڑ نویں آسمان پر، دعوے، اللہ کی پناہ۔ اگلے دن ایک اخبار اشتہار میں وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کی پورے صفحے سے باہر نکلتی ہوئی تصویریں دیکھ کر میں ڈر گیا کہ اللہ خیر کرے۔ کوئی حادثہ تو نہیں ہو گیا۔ اللہ کریم حکمران طبقوں جنہوں نے عوام کی زندگی تنگ کر دی کو اتنی لمبی زندگی دے کہ زندگی کی اہمیت ختم ہو جائے۔ اور ان کی اصلیت کے انکشاف کا کوئی پہلو پنہاں نہ رہے۔ سنا تھا ظلم کی حکومت نہیں چل سکتی۔ مہنگائی مقدمات اور بیماری میں لوگ مر جایا کرتے ہیں۔ ظلم، نا انصافی، مہنگائی، بے راہ روی، بے آئین زمین، میرٹ فارغ، دعووں پر یوٹرن مسلمہ اصول قرار پانا اپنی جگہ مگر یہ ڈھٹائی کا راج میں نے زندگی میں دیکھا نہ پڑھا۔ لانے والوں نے تو نواز شریف اور زرداری صاحبان سے جان چھڑائی تھی آج حالت یہ ہے کہ مریم نواز پنجاب میں مجھ ایسے بے نام کو بھی ٹکٹ دے تو مقابلے میں خان صاحب کی ضمانت ضبط ہو جائے یہی صورت حال سندھ میں بلاول بھٹو کی مقبولیت کی ہے۔ حکمرانوں کے دعوے دیکھیں پڑھیں اور سنیں تو لگتا ہے یورپ کی کسی فلاحی ریاستوں کی بات کر رہے ہیں اور اس ڈھٹائی کے ساتھ کہ اللہ ہی کوئی راہ نکالے۔ حضور! وزیراعظم صاحب! آپ نے اس قوم کے امکان کا کھلواڑ کیا ہے۔آپ نعروں کے ساتھ آئے تھے جانے کے لیے چند باتیں NRO نہیں، جعلی Absolutely Not کا سہارا ڈھونڈیں گے؟ آپ کے دور میں لوگ جھوٹ کی تمام تہوں سے واقف ہو چکے۔ خدارا رحم کریں اور امکان کے ساتھ کھلواڑ وہ بھی بھرپور ڈھٹائی کے ساتھ بند کریں۔