پنجاب میں مسلم لیگ ن کے شکست کے اسباب

 پنجاب میں مسلم لیگ ن کے شکست کے اسباب

گزشتہ چارپانچ ماہ سے ملکی سیاست میں جو قلابازیاں لگوائی جارہی ہیں ان پش اپس کے انسٹرکٹرز سے قطع نظر ہردوپارٹیوں (مسلم لیگ ن بمع بقایا PTI+)کی چھوٹی چھوٹی کامیابیوں اور بڑی بڑی شکستوں کے ووٹروں کو سمجھ نہیں آرہا کہ لڈیاں ڈالیں کہ دھاندلی کا رولا جسے اب کی بار بڑے تکنیکی انداز میں بطور موضوع ختم ہی کردیا گیا ہے، یعنی پہلے فیڈرل کا پورا نظام مع وزیراعظم کا عہدہ چھین کر پنجاب میں پی ٹی آئی ہی کی بیس میں سے 15سیٹیں لوٹادی گئیں جسے پی ٹی آئی والے فتح پر معمول کررہے ہیں، مسلم لیگ ن کو انتہائی تذلیل کے ساتھ ’’چوغا‘‘ ڈالا گیا ادھر پرویز الٰہی کو اس عمر میں خوارکرکے سردھڑ کی بازی لگوانے پر مجبور کردیا گیا تمام سیاسی مہرے روز فتح یاب ہوتے ہیں دورشکست خوردہ پی پی پی بھٹو سے شروع ہوکر بلاول تک پہنچی سندھ کا لقمہ دے کر ٹرخادی گئی ہے خود کو نظریاتی کہنے والے نواز شریف نہ جانے لندن میں کونسا نظریہ اضافت تلاش کررہے ہیں جبکہ میری ذاتی رائے میں وہ نہایت ڈپریشن کا شکار ہیں جو ان کے چہرے پر لکھا ہے ابھی گزشتہ ضمنی انتخاب میں ان کے نام کی لہر مریم نواز نے چلائی مگر ایک بالکل خاموش ٹھہرے ہوئے تالاب میں کتنے ہی کنکرماردو وہ خاموش ہی رہتا ہے اس بت میں جان ڈالنے کے لیے مریم نے تختہ الٹنے کا سارا ’’شریہہ‘‘ نوازشریف کو دیا جبکہ ادھر بلاول اس کا کریڈٹ بلاول ہائوس میں ہونے والی سازش کو قرار دیتے رہے یعنی کیا زمانہ آگیا ہے کہ سازش اپنے سر لینے کا بھی کریڈٹ ہردوپارٹیاں لے رہی تھیں۔ 

میں نے پنجاب میں کئی گھریلو خواتین دیکھی ہیں جو دوسروں کے گھروں میں لڑائی ڈلواکر بڑے فخرسے کہتی ہیں طلاق میں نے کروائی ہے۔سوال یہ ہے کہ پاکستان میں واضح اکثریتی حکومت کیوں نہیں بننے دی جاتی جس کے متوقع جوابات ہیں۔ 

1۔ سیاست دانوں کی آپسی لڑائیاں 

2۔ سیاست دانوں پر بنے ہوئے مقدمات (جھوٹے یا سچے)

3۔ ہوس اقتدار میں آدھی روٹی قبول کرنا (کمپرومائزز)

4۔ قوم کا لیڈربننے کے لیے ترسنا اور ہرسیاست دان کا جھوٹے خواب دکھانا۔ 

5۔ پٹرول بجلی کے ’’مڈھ‘‘ کو جانتے ہوئے معیشت کی سکت کا اندازہ رکھتے ہوئے بھی پہلے جھوٹے وعدے کرنا بعد ازاں کہنا قرضے مسائل وراثت میں ملے ہیں۔ 

6۔ حتمی اور آخری کرپشن کرنا اور صرف دوسرے کی کرپشن طشت ازبام کرنا شیشے کے گھر میں رہ کر پتھر مارنا پھر منہ کی کھانا کرپشن جمع کرپشن برابر=بری ہو جانا یہ سب تو چل ہی رہا تھا موجودہ ابتری کا اضافہ پی ٹی آئی کی طرف سے یہ ہوا ہے کہ ہماری بچی کھچی ویلیوز اور معاملہ فہمی ورکھ رکھائو کے کلچر پر شدید حملہ ہوگیا ہے جبکہ اگر عمران خان نے بقول ان کے ازلی کرپشن کو پکڑ ہی لیا تھا تو اس کا راستہ بذریعہ قانون پھانسی تھا چین میں تو بلڈوزر گزاردیتے ہیں مگر وہاں نیب جیسے ادارے نہیں ریفرنس انتقام نہیں ثبوتوں کی بنیاد پر عدالت میں داخل کیا جاتا ہے تو عدالت کے لیے کوئی گنجائش ہی نہیں بچتی کہ وہ سزانہ دے یہاں ایف آئی آر سے لے کر ریفرنس داخل کرنے تلک جھوٹے الزامات اور غلط نامزدگیاں ہوتی ہیں جو عدالت میں جاکر وکیلوں کی جرح کے دوران آپس میں کاغذات نہ ملنے کی صورت میں ثبوت اور گواہی کے تضاد میں داخل دفتر ہو جاتے ہیں اور لیڈرجلسے میں چیخ چیخ کر کہتا عدالتیں بک گئیں یہ بھی سب کو پتہ توہین عدالت کا ارتکاب ہونے لگے تو وقت نہیں دیکھا جاتا وقت توہین پر عدالت حرکت میں آجاتی ہے مگر عوام کو ’’بالاز‘‘ بناکر ڈگڈگی بجائی جاتی ہے کہ ’’آدھی راتی عدالتاں کھل  گئیاں‘‘ تو کیا ہواشیریں مزاری کو نہیں رات گیارہ بجے عدالت میں پیش کرنے کا حکم ہوا…

دیگر ادارے سیاست کو چھوڑ کر پینسٹھ برس تک فکر معاش سے بے اعتنا ہوکر شطرنج کھیلنے کی کوشش کیوں نہ کریں اپنی نوکریاں تو وہ پوری کرآتے ہیں اتنی بڑی تفریح ان کے ہاتھ لگتی ہے جو ایک دوسرے کو اس حدتک گندہ کرتے ہیں کہ کسی تفتیشی ادارے کو تحقیقات کی زیادہ ضرورت ہی نہیں پڑتی اس دور میں انہیں مزید ایک دوسرے کو ذلیل ورسواء کرنے کے لیے ’’ویڈیوز‘‘ کی فراہمی کا سلسلہ بھی جاری ہے ابھی بہت سی ویڈیوز اس لیے رکی ہوئی ہیں کہ ایک دوسرے کی ٹکر کی ہیں، جیسے انڈیا پاکستان دونوں کے پاس ایٹم بم ہے اس لیے نہیں چلا …

یہ ویڈیوز صرف سیاست دانوں یا ان سے ملحقہ لوگوں کی کیوں ہوتی ہیں، کسی بینکر کسی ڈاکٹر وغیرہ وغیرہ کی کیوں نہیں۔ 

سیاست دانوں کو گندہ کرنے کا تو چلو سلسلہ بہت پرانا ہے اس کے ساتھ مختلف اوقات میں مختلف میڈیا ہائوسز بھی سزاوجزا کے عمل میں آجاتے ہیں، موجودہ نقصان ان تمام مندرجہ بالا نقصانات سے بڑھے یہ جو کلچر پر حملہ ہے، اب اندازہ کریں پی ایم ایل این کا کوئی حکمران پریس کانفرنس کرلے نیچے تنقید یا توصیف آنی چاہئے لیکن جیسے ہی وزیراعظم منہ کھولتا ہے دس ہزار ہاتھ غلیظ گالیوں پر کلک کے لیے مقید بیٹھے ایک سیکنڈ میں مغلظات کا ڈھیر لگادیتے ہیں۔ 

اس دور میں ہراس عورت سیاست دان کا حوصلہ ہے جو سیاست کررہی ہے اور پی ٹی آئی میں نہیں … اس کی تقریر کے نیچے تو کوٹھے پر بولنے والی زبان بھی ماند پڑ جاتی ہے…؟ یہ مسلمان کو کس کام پر لگادیا جبکہ مسلم لیگ ن میڈیا محاذ الیکٹرانک پر اس درجہ ناکام ہے کہ ابھی وزیراعلیٰ میرے بزرگو کہنے ہی کا ارمان پورا کررہا ہوتا ہے کہ دس ہزار گالیاں پڑجاتی ہیں مگر وہ اپنا ڈیٹا دہرایا ہو ہزار بار کے پڑھے ہوئے اشعار اور پرانی سپیچ کرتے ہوئے یہ نہیں دیکھتا کہ اس کے حق میں ایک بھی کمنٹ کیوں نہیں آرہا اگر پورا کے پورا سوشل میڈیا ہیک ہوگیا ہے تو آپ کیوں تقریر کرکے اپنی جدپشت کو گالیاں پڑوارہے ہیں … آپ کے پاس کوئی آئی ٹی سپیشلسٹ نہیں کہ دوطرفہ مغلظات میں ذرا دنیا کو بھی تو پتہ چلے نا کہ الگ اسلامی ریاست حاصل کرنے والوں نے برصغیر کے لیڈروں سے کہا تھا کہ ہمیں اپنی الگ شناخت کے لیے اپنے مذہب اور رسومات کی ادائیگی کے لیے ملک چاہئے ذرا دکھائیے نا دنیا اور بھارت کو کس گالی گلوچ کے لیے ہم نے ملک حاصل کیا تھا یہ ہے وہ کلچر جس کے لیے ہمارے بزرگوں نے قربانیاں دیں عورتوں نے عصمتیں خاوند اور بچے گنوائے۔ 

مصنف کے بارے میں