نیپرا نے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا عندیہ دیدیا

نیپرا نے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا عندیہ دیدیا

اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں مسلسل اضافے کے بعد بجلی کی قیمت میں بھی مزید اضافے کا عندیہ دیدیا ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق بجلی کے بنیادی ٹیرف میں اضافے کی درخواست پر چیئرمین نیپرا توصیف ایچ فاروقی کی صدارت میں سماعت ہوئی جس دوران ایڈیشنل سیکرٹری پاور ڈویژن محفوظ بھٹی نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ نیپرا 4 جون کو بجلی 7.91 روپے فی یونٹ اضافے کی منظوری دے چکی ہے۔ 

نیپرا حکام کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے یکم جولائی سے ساڑھے 3 روپے فی یونٹ اضافے کی درخواست کی ہے جبکہ یکم اگست سے مزید فی یونٹ ساڑھے 3 روپے اضافے کی درخواست ہے اور اکتوبر کیلئے بجلی کی قیمت میں مزید 91 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

سیکرٹری پاور ڈویژن نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ صارفین پر ایک ساتھ بوجھ نہ ڈالا جائے جبکہ مرحلہ وار اضافے کے باوجود حکومت بجلی ٹیرف 220 ارب روپے کی سبسڈی دے گی جبکہ قیمت میں اضافے سے تقریباً 50 فیصد صارفین پر کوئی اضافی بوجھ نہیں پڑے گا۔ 

چیئرمین نیپرا نے کہا کہ ہم نے تو ٹیرف منظوری دینی ہے، کس کو کتنی سبسڈی دینی ہے یہ تو وفاقی حکومت کا کام ہے، نیپرا نے کوئی الیکشن نہیں لڑنا، نیپرا نے تو درخواست پر فیصلہ کرنا ہے۔ عالمی منڈی میں فیول پرائسز بڑھ رہی ہیں اور بجلی کی پیداواری لاگت میں 16 گنا اضافہ ہوا ہے، اگر یہ قیمت صارف ادا نہیں کرے گا تو کون کرے گا؟ 

صارف عارف بلوانی نے کہا کہ نیپرا سے تو صرف خانہ پری کرائی جا رہی ہے، کابینہ بجلی مہنگی کرنے کی منظوری پہلے ہی دے چکی ہے جس پر چیئرمین نیپرا توصیف ایچ فاروقی نے کہا کہ نیپرا نے بجلی ٹیرف کا تعین 200 روپے فی ڈالر ایکسچینج پر نکالا تھا اور اس وقت ڈالر 226 روپے پر پہنچ چکا ہے۔

نیپرا حکام نے کہا کہ روپے کی قدر میں کمی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ سے مزید مہنگی بجلی کا باعث بن سکتی ہے، تمام ٹیکسز سمیت فی یونٹ بجلی اس وقت 27 روپے سے زائد میں پڑ رہی ہے، بنیادی ٹیرف میں اضافے کے بعد فی یونٹ بجلی ٹیکسوں سمیت 40 روپے تک جا سکتی ہے۔

مصنف کے بارے میں