عدالت کی تضحیک کا سوچ بھی نہیں سکتا، نہال ہاشمی نے جواب جمع کرا دیا

عدالت کی تضحیک کا سوچ بھی نہیں سکتا، نہال ہاشمی نے جواب جمع کرا دیا

اسلام آباد: میری تقریر کو عمران خان نے سیاق وسباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا اور تقریر ایک مرتبہ کی جبکہ میڈیا نے بار بار چلا کر میرے خلاف فضا قائم کر دی۔ نہال ہاشمی نے توہین عدالت کیس میں سپریم کورٹ کے نوٹس کاجواب جمع کرا دیا۔ سینیٹر نہال ہاشمی کی جانب سے جمع کرائے جانے والے جواب میں کہا گیا کہ ان کی تقریر سے توہین عدالت نہیں ہوئی۔ ان کے خلاف سیاسی مخالفین نے منفی مہم چلائی سپریم کورٹ اس کی تحقیقات کا حکم دے ۔


جواب میں مزید کہا گیا کہ انہیں دہری سزا دی جا رہی ہے۔ اٹارنی جنرل ایک طرف کیس کے پراسیکیوٹر جبکہ دوسری طرف فریق ہیں۔ اٹارنی جنرل کے خط پر سندھ حکومت کی ان کیخلاف کارروائی حیران کن ہے۔

اٹارنی جنرل کی درخواست پر مقدمہ قائم کرنا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔ نہال ہاشمی نے اپنے جواب میں قرانی آیات کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ ان کے فوجداری مقدمہ ختم کیا جائے اور اظہار وجوہ کا نوٹس بھی واپس لیا جائے۔

یاد رہے 31 مئی کو نہال ہاشمی کی ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں اپنی جذباتی تقریر کے دوران لیگی سینیٹر دھمکی دیتے نظر آئے تھے کہ پاکستان کے منتخب وزیراعظم سے حساب مانگنے والوں کے لیے زمین تنگ کر دی جائے گی۔ نہال ہاشمی نے جوش خطابت میں کسی کا نام لیے بغیر کہا تھا کہ حساب لینے والے کل ریٹائر ہو جائیں گے اور ہم ان کا یوم حساب بنا دیں گے۔

سینیٹر نہال ہاشمی کی غیر ذمہ دارانہ اور دھمکی آمیز تقریر کے بعد وزیراعظم نواز شریف نے اس کا نوٹس لیتے ہوئے نہال ہاشمی کی بنیادی پارٹی رکنیت معطل کر دی تھی جبکہ مریم اونگزیب نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ نہال ہاشمی سے سینیٹ کی رکنیت سے بھی استعفیٰ طلب کیا تھا۔ تاہم نہال ہاشمی نے سینیٹ چیئرمین رضا ربانی سے اپنا استعفیٰ منظور نہ کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا تھا کہ انھوں نے استعفیٰ دباؤ کے ماحول میں دیا تھا۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے بھی نہال ہاشمی کی دھمکی آمیز تقریر کا نوٹس لیتے ہوئے معاملہ پاناما کیس عملدرآمد بینچ کے پاس بھیجنے کی ہدایت کی تھی۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں