سندھ میں گورننس نام کی کوئی چیز نہیں: چیف جسٹس

سندھ میں گورننس نام کی کوئی چیز نہیں: چیف جسٹس

image by facebook

کراچی: چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے سندھ میں پیپلزپارٹی کی سابقہ حکومت کی کارکردگی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ میں گورننس نام کی کوئی چیز نہیں۔


سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں مٹھی تھرپارکر میں بچوں کی ہلاکت سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے سابقہ حکومت کی کارکردگی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نجی اسپتال کی رپورٹ کے مطابق بچوں کی اموات حکومت کی غفلت سے ہوئیں۔

جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ سندھ میں گورننس نام کی کوئی چیز نہیں، سابق وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کہاں ہیں؟ وہ کراچی میں ہیں تو انہیں بلاکر کارکردگی کا پوچھیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جس طرح مراد علی شاہ کی کارکردگی ہےکیا وہ اگلا الیکشن بھی لڑرہے ہیں؟ سندھ اور دیگر صوبوں کی کارکردگی میں واضح فرق نظر آتا ہے۔

سیکریٹری صحت فضل اللہ پیچوہو نے عدالت میں بتایاکہ چیف سیکریٹری میری سنیں تو میں کچھ کروں، سارا نظام تباہ ہے، اکیلا کیا کرسکتا ہوں؟

چیف جسٹس نے سیکریٹری صحت سے استفسار کیا کہ آپ سے اوپر کون ہے؟صوبے کے وزیراعلیٰ کے اوپر کون تھا؟ صوبے کے سب سے بڑے سے تو آپ کی رشتہ داری ہے،کیا انہیں صورتحال بتائی؟ غریبوں کے بچے مر گئے ان کا کیا کریں گے؟

جسٹس ثاقب نثار نےسیکریٹری صحت سے مکالمہ کیا کہ سب ذمےداری آپ کی حکومت پرعائد ہوتی ہے , اس موقع پر معاون عدالت نے بتایا کہ سندھ کو70 فیصد ڈاکٹر اور طبی عملے کی کمی کا سامنا ہے، ڈاکٹرز اور طبی عملے کی کمی پوری کیے بغیر صورتحال بہتر نہیں ہوسکتی۔

چیف جسٹس نے سیکریٹری صحت سے پوچھا کہ صوبے میں کتنے ڈاکٹرز اور طبی عملے کی کمی ہے؟ اس پر فضل اللہ پیچوہو نے بتایا کہ 6 ہزار ڈاکٹرز اور طبی عملے کی بھرتی کی سفارش کی ہے، مسئلہ یہ ہے کراچی سے کوئی ڈاکٹر تھرپارکر جانے کو تیار نہیں۔

جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیاکہ اب تک کیوں ڈاکٹرز اور عملے کو بھرتی نہیں کیا؟ اس کا ذمے دار کون ہے؟ اب عبوری حکومت کیا کرسکتی ہے؟ بتائیں ڈاکٹرز کی بھرتی میں ہم کیسےمعاونت کر سکتے ہیں؟ جن کے بچے مرے ان کی تلافی کون کرے گا؟چیف جسٹس نے سیکریٹری صحت سے  مکالمہ کیا کہ آپ 5 ماہ سے کہہ رہے ہیں کام ہو جائے گا، کب بہتری آئے گی؟