حساب کتاب بند کر کے آگے کی بات کی جائے، زرداری

 حساب کتاب بند کر کے آگے کی بات کی جائے، زرداری
میرے پکڑنے سے پارٹی مضبوط ہو گی اور مجھے پکڑنے سے فرق نہیں پڑے گا، زرداری۔۔۔۔۔۔فوٹو/ اسکرین گریب

اسلام آباد: جعلی اکاؤنٹس کیس میں گرفتار سابق صدر آصف زرداری کو نیب کی ٹیم پارلیمنٹ ہاؤس لے کر پہنچی جہاں ٹیم نے انہیں سارجنٹ ایٹ آرمز کے حوالے کیا۔قومی اسمبلی پہنچنے پر آصف زرداری کے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری نے ان کا استقبال کیا۔


بعد ازاں اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے آصف زرداری نے پروڈکشن آرڈر کی حمایت پر ایم کیو ایم اور اختر مینگل سمیت اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کا شکریہ ادا کیا۔

بجٹ پر بات کرتے ہوئے سابق صدر کا کہنا تھا کہ بجٹ کی بات کریں اور سب رو رہے تو کوئی وجہ تو ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بڑھائیں اس سے زیادہ ٹیکس بڑھا دیا۔ صنعتکار خوفزدہ ہے کہ پانچ لاکھ چیک پر حساب دو تاہم کون کون حساب دے گا۔

آصف زرداری نے کہا اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ بجٹ ان کا بنایا ہوا نہیں ہے اور ہمارے علاقوں میں ٹڈی آئی ہوئی ہے جو کپاس کی فصل کو تباہ کررہی ہے۔ کہیں اور ایسا ہوتا تو اب تک تو سعودی عرب سے امداد آ جاتی ہے ۔ ملک کے معاشی مسائل سب کے اور مشترکہ ہیں۔

انہوں ںے مزید کہا کہ اگر آئی ایم ایف سے پیسے مل رہے ہیں تو لوگ کیوں رو رہے ہیں کیونکہ ہر انڈسٹری کے بڑے بڑے ایڈ آ رہے ہیں کہ ہمیں بچاؤ، آئیں مل کر حکومت اپوزیشن مل کر معیشت پر کوئی معاہدہ کر لیں۔ حساب کتاب بند کیا جائے اور آگے کی بات کی جائے اور میرے پکڑنے سے پارٹی مضبوط ہو گی مجھے پکڑنے سے فرق نہیں پڑے گا اور عام لوگ خوفزدہ ہیں کہ زرداری پکڑا جا سکتا ہے تو ہمارا کیا بنے گا۔

آصف زرداری کا کہنا تھا کہ ایسا نہ ہو مہنگائی سے تنگ عوام نکل آئیں اور سیاسی جماعتیں پیچھے رہ جائیں جبکہ ایسا نہ ہو کل عوام اور پورا ملک کھڑا ہو جائے پھر کوئی پارٹی سنبھال سکے گی نہ ہم۔ ایسا نہ ہو کہ سیاسی طاقتوں سے بھی یہ گیند نکل جائے اور جو طاقتیں انہیں لے کر آئی ہیں انہیں بھی سوچنا چاہیے۔