یہودی ایجنڈے کے تحت عمران خان کو اقتدار دیا گیا: فضل الرحمن

یہودی ایجنڈے کے تحت عمران خان کو اقتدار دیا گیا: فضل الرحمن

پشاور (نیو نیوز) پی ڈی ایم اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اعلان کیا ہے کہ 4 جولائی کو سوات اور  29 جولائی کو کراچی میں بڑا اجتماع ہوگا۔عمران خان کی شکل میں نئے نظام کا تجربہ ناکام رہا ۔یہودی ایجنڈے کے تحت عمران خان کو اقتدار دیا گیا۔

پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ ایسا ادارہ کہلاتا تھا بالادستی کا ادارہ تھا لیکن بجٹ اجلاس میں اس کی توہین اور تضحیک کی گئی، ایک بھونڈے انداز سے بجٹ پیش کیا گیا، اور جھوٹ کو چھپانے کے لیے پارلیمنٹ کے اندر اپوزیشن پر جوتے پھینکے گئے، اس قسم کے کردار اور گرے ہوئے رویے کے بعد کیسے پارلیمنٹ کی بالا دستی کی بات کی جائے گی۔

سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ بجٹ جھوٹ کا پلندہ تھا اور حکومت نے ہلڑ بازی کا سہارا لیا، ایسی تلخی میں پارلیمنٹ نہیں چل سکتی، قومی اسمبلی سے معاملہ بلوچستان تک پہنچا، بلوچستان کی محرومیوں کو نظرانداز کیا گیا اور اپوزیشن کے حقوق سلب کیے گئے، کسی بھی حال میں حکومت کو رہنے کا کوئی جواز نہیں۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم اپنے موقف پر قائم ہے حکومت کے خلاف عوامی قوت کے ساتھ تحریک کا عمل جاری ہے، شہبازشریف نے انتخابی اصلاحات کے لئے اے پی سی کی تجویز دی ہے جس کی ہم تائید کرتے ہیں۔

سربراہ پی ڈی ایم کا کہنا تھا کہ سوات میں 4 جولائی کو تاریخ کا بڑا اجتماع ہوگا۔ ہم ثابت کریں گے کہ حکومت کو عوام پر کیسے مسلط کیا گیا، ایسے لوگ پشتون لوگوں کے نمائندے نہیں بن سکتے، 29 جولائی کو کراچی میں بڑا جلسہ ہوگا، اور ایک بار پھر وہاں عوامی صفحوں کو منظم کیا جائے گا، ملک کو آئین کی پٹڑی پر واپس لانے کی جدوجہد کریں گے۔

سربراہ پی ڈی ایم نے کہا کہ 2013 میں بتایا گیا کہ مذہبی قوتوں کی جڑوں کو اکھاڑنے کے لیے عمران خان سے بہتر چوائس نہیں،2018 کے عام انتخابات میں خالصتا امریکی اور یہودی ایجنڈے پر عمل کیا گیا، ایک مادر پدر آزاد معاشرہ تشکیل دینے کی کوشش کی جارہی ہے، آج  نئے نظام کا تجربہ ناکام نظر آریا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مہنگائی کا نیا پہاڑ گرنے والا ہے، قبائل کے لیے نمائشی بجٹ مختص کیا گیا، دہشت گردی دوبارہ سر اٹھا رہی ہے، ٹارگٹ کلنگ کے لیے نئی تنظیمیں پیدا ہورہی ہیں، ہمیں شبہ ہے اس قسم کے حالات ریاستی اداروں کے ناک کے نیچے پیدا ہوتے ہیں، ہم اداروں کا احترام کرتے ہیں لیکن ہم کہتے ہیں انتخابی مراحل کے اندر جاسوسی اداروں کی مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔