وزیراعظم کی رمضان شوگر ملز کیس مستقل حاضری سے استثنیٰ کی درخواست

وزیراعظم کی رمضان شوگر ملز کیس مستقل حاضری سے استثنیٰ کی درخواست

لاہور: وزیراعظم شہباز شریف نے رمضان شوگر ملز کیس میں مستقل حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کر دی ہے جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف کی جانب سے بھی حاضری استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت لاہور میں وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کے خلاف رمضان شوگر ملز کیس کی سماعت ہوئی جس دوران وزیراعظم شہباز شریف عدالت میں پیش ہوئے۔ 

ذائع کے مطابق وزیراعظم نے مستقل حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی جبکہ اس موقع پر حمزہ شہباز شریف کی جانب سے بجٹ سیشن کے باعث مصروفیات کی وجہ سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست بھی دائر کی گئی۔ 

وزیراعظم شہباز شریف نے دوران سماعت عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ چنیوٹ میں نالے کی تعمیر مقامی رکن صوبائی اسمبلی کی درخواست پر کی گئی جس کیلئے صوبائی کابینہ کی منظوری بھی لی گئی تھی۔ 

ان کا کہنا تھا کہ میں نے بطور وزیراعلیٰ پنجاب ہمیشہ عوامی فلاح و بہبود کو ترجیح دی، گنے کی قیمت مقرر کرتے ہوئے شوگر ملوں کے بجائے کاشت کار کے مفادات کو پیش نظر رکھا گیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ جب بھی عدالت نے طلب کیا، میں نے اپنی پیشی کو یقینی بنایا کیونکہ یہ میرا فرض بھی ہے اور ذمہ داری بھی، اب میرے کندھوں پر بڑی بھاری ذمہ داری ہے جس کی ادائیگی کیلئے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی ہے۔ 

شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز نے مستقل حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف جب بیرون ملک گئے تو حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دی اور 23مارچ واپس آ کر عدالت میں پیش ہوئے۔ 

انہوں نے عدالتی اجازت کا غلط استعمال نہیں کیا اور واپس آئے حالانکہ وہ 67 سال کے ہیں اور کینسر کے مرض کا مقابلہ کر رہے ہیں، بعد ازاں عدالت نے وزیراعظم سمیت دیگر ملزمان کی حاضری مکمل کر کے انہیں جانے کی اجازت دیدی۔ 

مصنف کے بارے میں