اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے حفاظتی ضمانت کی درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے شرجیل میمن کی حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے 20 لاکھ روپے کے مچلکے داخل کرانے کا حکم دے دیا۔

سماعت کے دوران وکیل نیب نے شرجیل میمن کو حفاظتی ضمانت دینے کی مخالفت کی۔ نیب پراسیکیوٹر نے موقف اختیار کیا کہ لاہور ہائیکورٹ بھی شرجیل میمن کی حفاظتی ضمانت کی درخواست مسترد کر چکی ہے۔ جس پر جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے ریمارکس میں کہا شرجیل میمن نے عدالت کے سامنے سرنڈر کیا۔ بتایا جائے کیوں حفاظتی ضمانت نہ دی جائے؟۔

وکیل نیب نے کہا احتساب عدالت شرجیل میمن کو مفرور قرار دے چکی ہے اب ایسی صورتحال میں یہ ضمانت غیر معمولی ہو گی۔ اس پر جسٹس اطہر من اللہ نے کہا عدالت نے صرف یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کیا انکو حفاظتی ضمانت دی جا سکتی ہے یا نہیں۔ نیب پراسیکیوٹر نے کہا شرجیل میمن نے حفاظتی ضمانت کا غلط استعمال کیا۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا فیصلے موجود ہیں اگر مفرور ملزم سرنڈر کرے تو ضمانت قبل از گرفتاری میں کوئی قباحت نہیں۔

شرجیل میمن نے عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا آج عدالت نے مجھے انصاف دیا جس کے لئے شکر گزار ہوں۔ میرے خلاف چودھری نثاراینڈ کمپنی کام کررہی ہے۔ ان کیسز میں 15، 16 لوگ پہلے ہی ضمانت پر ہیں، ان کا مزید کہنا تھا یہ ریفرنس میری غیر موجودگی میں دائر کیا گیا اور اکتوبر 2016 میں میرے خلاف ریفرنس بنایا گیا تھا۔

واضح رہے کہ شرجیل انعام میمن نے 2015 میں خود ساختہ جلا وطنی اختیار کرلی تھی، تقریباً 2 سال تک وہ بیرون ملک رہنے کے بعد 18 اور 19 مارچ کی درمیانی شب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہنچے تو انہیں قومی احتساب بیوروکے اہلکاروں نے 5 ارب روپے کی کرپشن کے الزام میں ایئرپورٹ سے ہی گرفتار کر لیا تھا۔ تاہم 2 گھنٹے تک پوچھ گچھ کرنے اور ضمانتی کاغذات دیکھنے کے بعد رہا کردیا تھا۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں