کراچی: سندھ ہائی کورٹ میں  ڈاکٹر عاصم کی ضمانت کیس کی سماعت کی گئی۔ ڈاکٹرعاصم کے وکیل لطیف کھوسہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹرعاصم شدید بیمار ہیں اور ضمانت انکا حق ہے۔ بیرون ملک نہ بھیجا گیا تو ان کا نچلا دھڑ ضائع ہو سکتا ہے۔

دل کے دورے کے ساتھ ان پر فالج کا بھی حملہ ہو چکا ہے۔ وکیل کا مزید کہنا تھا کہ ڈاکٹر عاصم کو انکی مرضی کے مطابق علاج کی سہولت  نہیں دی گئی۔

میڈیکل رپورٹس سے ثابت ہوتا ہے کہ ڈاکٹر عاصم ذہنی تناؤ کا شکار ہیں۔ دوسری جانب نیب کے وکیل نے کہا کہ ڈاکٹر عاصم رینجرز کے وردی سے ڈرتے ہیں ان کا نفسیاتی علاج بھی ہو رہا ہے۔ ہائیڈرو تھراپی کے علاوہ آغا خان اسپتال میں ہر بیماری کا علاج ہے۔ ڈاکٹر عاصم کی ضمانت مسترد کر دی جائے۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔ 

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں