'کلبھوشن کی پھانسی کے معاملے پر پاکستان اپنے موقف پر ڈٹا رہے گا'

'کلبھوشن کی پھانسی کے معاملے پر پاکستان اپنے موقف پر ڈٹا رہے گا'

نیو دہلی: پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط  کا بھارتی جریدے سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا قومی سلامتی کے معاملات پر سمجھوتہ نہیں کریں گے اور عالمی عدالت انصاف کو بھارتی جاسوس کلبھوشن کی پھانسی پر حکم امتناعی دینے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ پاکستان اسے فوری طور پر پھانسی نہیں دینے والا تھا اس کے لئے تمام قانونی تقاضے پورے کریں گے۔


ان کا مزید کہنا تھا کلبھوشن کو قونصلر رسائی دینے کا فیصلہ میرٹ پر ہو گا اور ہمارا ماننا ہے کہ کلبھوشن پر لگائے جانے والے الزامات درست ہیں پاکستان اپنے موقف پر ڈٹا رہے گا۔ بھارتی جاسوس کے کیس سے ثابت ہوا کہ پاکستان میں دہشت گردی میں بیرونی طاقتوں کا ہاتھ ہے۔

پاک بھارت مذاکرات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط نے کہا پاکستان بھارت سے مسئلہ کشمیر سے لیکر دہشت گردی تک ہر معاملہ پر مزاکرات کے لیئے تیار ہے لیکن موجودہ صورتحال میں مشروط مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک آج مذاکرات کے لیئے تیار ہوں یا پانچ سال بعد پاکستان اور بھارت کو بالآخر مذاکرات کی میز پر بیٹھنا ہو گا۔

یاد رہے پاکستان کی جانب سے بھارتی جاسوس کو پھانسی کی سزا سنانے کے بعد بھارت نے 10 مئی کو کلبھوشن یادیو کی سزائے موت کے خلاف عالمی عدالت انصاف سے رابطہ کر کے پاکستان پر ویانا کنوینشن کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا تھا اور 15 مئی کو درخواست پر پہلی سماعت کے دوران بھارت نے عالمی عدالت انصاف سے استدعا کی تھی کہ پاکستان کو کلبھوشن کی سزائے موت کو معطل کرنے کی ہدایات جاری کی جائیں کیونکہ اس فیصلے سے کلبھوشن کے بنیادی حقوق مجروح ہوئے ہیں۔ تاہم 18 مئی کو عالمی عدالت نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی سزائے موت کے خلاف بھارت کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ حتمی فیصلہ آنے تک کلبھوشن کو پھانسی نہیں دی جا سکتی۔

بھارتی درخواست پر فیصلہ عالمی عدالت انصاف کے جج رونی اَبراہم نے سنایا جس میں انہوں نے پاکستان کا اعتراض مسترد کرتے ہوئے حکم امتناع جاری کر دیا اور کہا کہ عالمی عدالت اس معاملے کی سماعت کا اختیار رکھتی ہے۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں