فیض کو بچھڑے 32 سال گزر گئے

فیض کو بچھڑے 32 سال گزر گئے

لاہور: 13 فروری 1911ء کو ضلع نارووال کے ایک گاؤں میں پیدا ہونے والے فیض احمد فیض کو اگر 20 ویں صدی کا عظیم ترین شاعر قرار دیا جائے تو شاید ہی کسی کو اعتراض کی ہمت ہو۔


 فیض احمد فیض نے بی اےگورنمنٹ کالج لاہور سے کیا اور پھر وہیں سے 1932 میں انگلش میں ایم اے بھی کیا۔ انہوں نے 1930ء میں ایلس فیض سے شادی کی۔ 1935 میں آپ نے ایم اے او کالج امرتسر میں لیکچرار کی حیثیت سے ملازمت کی ۔1942 میں فوج میں کیپٹن کی حیثیت سے شامل ہو گئے۔

9 مارچ 1951 میں آپ كو راولپنڈی سازش كیس میں معاونت كے الزام میں حكومت وقت نے گرفتار كر لیا۔ آپ نے چار سال سرگودھا، ساھیوال، حیدر آباد اور كراچی كی جیل میں گزارے۔ آپ كو 2 اپریل 1955 كو رہا كر دیا گیا ۔ زنداں نامہ كی بیشتر نظمیں اسی عرصہ میں لكھی گئیں۔

فیض احمد فیص کی شاعری میں جمال و محبت ہی نہیں ظلم کے خلاف جہاد کرنے اور انقلاب بپا کرنے کی خواہش کا رنگ بھی نمایاں نظر آتا ہے۔فیض احمد فیص کی متعدد تصانیف دنیا کے سامنے آئیں ۔جن میں نقش فریادی ، دست صبا ، زنداں نامہ ، دست تہ سنگ ، شام شہر یاراں ، سر وادی سینا ، مرے دل مرے مسافر   اور نسخہ ہائے وفا شامل ہیں ۔فیض احمد فیض 20 نومبر 1984ء کو اِس دارِفانی سے کوچ کر گئے۔