ایران طالبان عسکریت پسندوں کی مدد کر رہا ہے ۔افغان حکومت

ایران طالبان عسکریت پسندوں کی مدد کر رہا ہے ۔افغان حکومت

کا بل :افغان حکومت نے ایک بار پھر ایران پر طالبان عسکریت پسندوں کی مدد کا الزام عائد کیا ہے۔ افغانستان نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی طرف سے طالبان شدت پسندوں کو اسلحہ اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کی جا رہی ہے جس کی مدد سے انہوں نے ملک میں حال میں کئی بڑی دہشت گردی کی کارروائیاں کی ہیں۔


افغانستان کے فرا صوبے کے گورنر آصف ننگ نے کابل میں ایک ٹی وی چینل کودیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ایران تحریک طالبان کے جنگجوو¿ں کی اپنے ملک میں قائم کیمپوں میں عسکری تربیت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں اسلحہ اور لاجسٹک سپورٹ مہیا کررہا ہے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ کابل نے ایران کے خلاف کھل کر اپنے موقف کا اظہار کیا ہے۔افغان طالبان کے امیر ملا ذبیح اللہ نے ایک بیان میں انکشاف کیا تھا کہ طالبان اور ایران کے درمیان تعلقات اور رابطے موجود ہیں۔

طالبان کمانڈر کا بیان اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران خطے میں دہشت گردوں کی مدد اور مسلح معاونت میں ملوث ہے،طالبان کے امیر ملا ھبت اللہ کے نائب اور تنظیم کے ترجمان ذبیح اللہ مجاھد نے عرب اخبار”الشرق الاوسط“ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تنظیم بہ قول ان کے امریکی قبضے کے خلاف مزاحمت کے تمام جائز ذرائع استعمال کررہی ہے۔

خیال رہے کہ رواں سال کے اوائل میں صوبہ بامیان میں افغان فوج نے طالبان کے ایک مرکز پر چھاپے کے دوران بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود پکڑا تھا۔ اس میں بڑی مقدار میں ایرانی ساختہ بارودی سرنگیں اور دیگر اسلحہ شامل تھا۔رواں سال مئی میں اس وقت کے طالبان امیر ملا اختر منصور کو پاکستان، ایران اور افغانستان کی سرحد پر ایک ڈورن حملے میں ہلاک کیا گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ملا اختر منصور کو دو ماہ تک ایران میں قیام کے بعد پاکستان لوٹتے ہی ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا۔