سعودی سفارتخانے پر حملے کے ملزمان کا نمائشی ٹرائل کیا گیا،ایرانی وکلاء

سعودی سفارتخانے پر حملے کے ملزمان کا نمائشی ٹرائل کیا گیا،ایرانی وکلاء

تہران :رواں سال کے اوائل میں ایران کے دارالحکومت تہران میں سعودی عرب کے سفارت خانے پر چڑھائی کرنے اور سفارت خانے کی عمارت کو آگ لگانے میں ملوث تخریب کار عناصر کے وکلاءنے انکشاف کیا ہے کہ ایرانی عدالتوں سے ملزمان کے خلاف حقیقی بنیادوں پر مقدمہ لڑا ہی نہیں گیا۔


عدالتوں کی طرف سے ملزمان کا محض نمائشی ٹرائل کیا گیا تاکہ دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکی جا سکے۔عرب ٹی وی کے مطابق مقدمہ میں ملزمان کی طرف سے پیش ہونے والے بعض وکلاءنے انکشاف کیا کہ ایران کی انقلاب عدالت نے ٹھوس شواہد نہ ہونے کا بہانہ بناتے ہوئے مقدمات پراسیکیوٹر کو واپس لوٹا دیے تھے جس کے بعد تمام ملزمان کو باعزت بری کردیا گیا۔

ملزمان کو عدالت میں بھی پیش کیا جاتا رہا مگر ججوں کے طرز عمل سے صاف لگ رہا تھا کہ وہ اس کیس کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے ۔محمد نریمانی نامی ایک وکیل نے کہاکہ عدالت نے سعودی عرب کے سفارت خانے پرحملے کے کیس کو دو حصوں میں تقسیم کردیا تھا۔ ایک حصے میں ’کار سرکار میں مداخلت‘ اور دوسرا سفارت خانے میں توڑپھوڑ قرار دیا گیا۔ مدعی کی عدم موجودگی کے باعث عدالت کی طرف سے کہا گیا کہ سفارت خانے میں توڑپھوڑ کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔