انسانی خون کی منتقلی کے بعد بوڑھے چوہوں میں حیران کن تبدیلی

امریکی سائنسدانوں نے ایک دلچسپ تجربہ کرتے ہوئے بوڑھے چوہوں میں جوان انسانی خون شامل کیا جس کے نتیجے میں آنے والے نتائج دیکھنے کے بعد سائنسی ماہرین خود بھی حیران رہ گئے۔

انسانی خون کی منتقلی کے بعد بوڑھے چوہوں میں حیران کن تبدیلی

کیلی فورنیا: امریکی سائنسدانوں نے ایک دلچسپ تجربہ کرتے ہوئے بوڑھے چوہوں میں جوان انسانی خون شامل کیا جس کے نتیجے میں آنے والے نتائج  دیکھنے کے بعد سائنسی ماہرین خود بھی حیران رہ گئے۔


 کیلی فورنیا کی بایوفارماسیوٹیکل کمپنی ’’الکاہسٹ‘‘ کے سائنسدانوں نے تجربے کے تحت 18 سالہ صحت مند نوجوان کے جسم سے خون حاصل کرکے اس میں سے بلڈ پلازما علیحدہ کیا اور اس کی کچھ مقدار انجکشن کے ذریعے مختلف چوہوں کے جسموں میں داخل کیں۔

سائنسی ماہرین نے یہ تحقیقات اُن چوہوں پر کیں جن کی عمریں 1 سال کے قریب تھیں، چوہوں کے حساب سے یہ عمر ادھیڑ عمری یا بڑھاپے میں شمار کی جاتی ہے جو انسانی عمر کے 50 سال کے برابر سمجھی جاسکتی ہے۔

سائنسی ماہرین کا کہنا ہے کہ جن چوہوں کے جسموں میں ایک ہفتے میں دو بار خون منتقل کیا گیا تھا اُن میں 15 روز بعد جوانی کے آثار واضح طور پر نظر آنے لگے اور وہ اُسی طرح چاق و چوبند بھی نظر آئے تاہم اس دوران چوہوں کی کارکردگی بھی انسانوں کی طرح نظر آنے لگی تھی۔

الکاہسٹ کے ماہرین نے تجربے میں کامیابی پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ جو نتائج حاصل ہوئے وہ انتہائی مثبت ہیں تاہم اب اس تجربے کو بوڑھے انسانوں پر آزمایا جائے گا جس کے بعد حتمی نتائج مرتب کیے جاسکتے ہیں۔