سردیوں کی وہ غذائیں جو آپ کو موسمی بیماریوں سے دور ررکھنے میں مدد دے سکتی ہیں

سردیوں کے موسم میں نزلہ، زکام اور کھانسی جیسی بیماریوں سے لوگوں کی بڑی تعداد متاثر ہوتی ہے لیکن کچھ چیزیں ایسی ہیں جنہیں روزمرہ غذا میں شامل کرکے سردیوں میں ان بیماریوں سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔

سردیوں کی وہ غذائیں جو آپ کو موسمی بیماریوں سے دور ررکھنے میں مدد دے سکتی ہیں

لاہور : سردیوں کے موسم میں نزلہ، زکام اور کھانسی جیسی بیماریوں سے لوگوں کی بڑی تعداد متاثر ہوتی ہے لیکن کچھ چیزیں ایسی ہیں جنہیں روزمرہ غذا میں شامل کرکے سردیوں میں ان بیماریوں سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔


مرغی کا شوربہ: مرغی کا شوربہ یا چکن سوپ ویسے تو ہر موسم میں بہتر غذا ہے لیکن خاص سردیوں کے موسم میں اس کا استعمال زکام کے وائرس سے بچانے میں بڑی مدد کرتا ہے۔ اور اگر اس میں ابلی ہوئی سبزیاں بھی شامل کرلی جائیں (یعنی سادہ چکن سوپ کی جگہ چکن ویجی ٹیبل سوپ پیا جائے) تو اس کے مفید اثرات اور بھی نمایاں ہوجاتے ہیں۔

رس دار پھل: ینو، موسمبی اور چکوترے (گریپ فروٹ) سمیت، سردیوں کے تقریباً تمام رس دار پھلوں میں وٹامن سی کی وافر مقدار ہوتی ہے جو کھانسی اور زکام کی شدت کم کرنے میں خصوصی مدد کرتی ہے۔ 21 مختلف طبّی مطالعات سے معلوم ہوچکا ہے کہ اگر آپ روزانہ صرف 1 سے 8 گرام تک وٹامن سی استعمال کرتے ہیں تو سردیوں میں نزلے، زکام اور کھانسی سے بڑی حد تک محفوظ رہ سکتے ہیں۔وہ بیماری جو دل کی بیماری اور شوگر سے زیادہ خطرناک ہے کسی بھی وقت موت کا سبب بن سکتی ہے لیکن آپ کو اس کا علم نہیں

لہسن اور پیاز: لہسن اور چھلکوں والی گول پیاز کے علاوہ لمبی ”ہری پیاز“ کا روزانہ استعمال بھی آپ کو سردیوں میں نہ صرف نزلہ زکام بلکہ بہت سی دوسری بیماریوں سے بھی محفوظ کرسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان میں قدرتی طور پر ایسے درجنوں مادّے پائے جاتے ہیں جو ایک طرف تو زخموں کو خراب ہونے سے بچاتے ہیں تو دوسری جانب ہمارے جسم میں بیماریوں سے لڑنے والے حفاظتی نظام (امیون سسٹم) کو بھی مضبوط بناتے ہیں۔ لہسن کا اضافی فائدہ یہ بھی ہے کہ اس سے بند ناک کھولنے میں مدد ملتی ہے۔

ادرک: گلے کی تکلیف میں ادرک والی چائے کا استعمال ہمارے ہاں عام ہے لیکن اب ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ ادرک میں ایسے مرکبات وافر ہوتے ہیں جو زکام (انفلوئنزا) کا باعث بننے والے تقریباً تمام وائرسوں کو نشانہ بناتے ہوئے کھانسی اور زکام کی شدت میں نمایاں کمی کرتے ہیں۔

شہد:  زخم مندمل کرنے اور موٹاپا ختم کرنے میں شہد کی شہرت سینکڑوں سال پرانی ہے؛ اور جدید سائنس نے بھی دریافت کیا ہے کہ شہد میں قدرتی طور پر ایسی کئی خصوصیات ہوتی ہیں جو اسے وائرس، جرثوموں اور پھپھوندیوں کے خلاف ایک مو¿ثر ہتھیار بناتی ہیں۔ سردیوں میں خالص شہد کا استعمال آپ کو نزلہ، زکام اور کھانسی سے تحفظ فراہم کرنے کے علاوہ بہت سے دوسرے فائدے بھی پہنچاتا ہے۔ البتہ ایک سال سے کم عمر بچوں کو شہد استعمال نہیں کروانا چاہئے کیونکہ اس میں شامل بعض اجزاءان کےلئے تکلیف کا باعث بن سکتے ہیں۔

دہی:  دہی کے بارے میں غلط فہمی عام ہے کہ سردیوں کے موسم میں دہی استعمال نہیں کرنی چاہئے حالانکہ اس کے مفید اثرات ہر موسم کےلئے ہیں۔ حال ہی میں دریافت ہوا ہے کہ دہی میں قدرتی طور پر ایک ایسا جرثومہ بھی پایا جاتا ہے جو کئی طرح کے وائرسوں کو بڑھنے سے روکتا ہے اور یوں ان کا حملہ ناکام بناتا ہے۔ ان میں زکام کی وجہ بننے والے وائرس بھی شامل ہیں۔ البتہ سردیوں میں اچھی صحت کےلئے کسی کمپنی کی تیار کردہ دہی کھانے کے بجائے دودھ کی دکان پر (کونڈے میں جمائی گئی) دہی کا استعمال زیادہ مفید رہتا ہے۔