ثبوت کے بغیر وزیر قانون کو کیسے ہٹاسکتے ہیں: احسن اقبال

 ثبوت کے بغیر وزیر قانون کو کیسے ہٹاسکتے ہیں: احسن اقبال

اسلام آباد:وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ مظاہرین وزیر قانون کا استعفیٰ کا مطالبہ کررہے ہیں ۔ ثبوت کے بغیر وزیر قانون کو کیسے ہٹا دیں۔ تفصیلات کے مطابق  وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے اسلام آباد دھرنے سے متعلق  میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی سیاسی جماعت دھرنے کو آئندہ انتخابات کےلئے اپنا لانچنگ پیڈ بنانا چاہتی ہے تو کھل کر سامنے آئے۔سیکیورٹی ادارے کسی بھی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔مسلسل ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا گیا تو پاکستان اس کا متحمل نہیں ہوسکتا ۔جگہ خالی کرانے کے لئے سیکیورٹی فورسز کے پاس جو بھی انتظامی کارروائی کا اختیار ہے وہ کریں گے ۔آپریشن آخری آپشن ہے ۔ مسئلے کے حل کےلئے آخری حد تک جائیں گے۔


وزیر داخلہ نے پیر امین الحسنات کے ہمراہ میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ دھرنے والوں سے پہلے پنجاب حکومت نے مذاکرات کئے جس کے بعد وفاقی حکومت نے مذاکرات کئے ہم نے یقین دلایا کہ ختم نبوت ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے ۔ اس معاملے پر ہم بھی اتنے ہی حساس ہیں اور غیر مند ہیں جتنا کوئی اور یا دھرنے والے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ یہاں یہ سوچنا کہ موجودہ حکومت یا کوئی اور حکومت اس قانون پر سمجھوتہ کر لے گی ممکن نہیں ۔پارلیمنٹ نے بہت ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ۔تمام جماعتوں نے ملکر قانون پاس کیا ۔ اب یہ مسئلہ پاکستان میں ہمیشہ کےلئے طے ہوگیا ۔

انہوں نے مزید  کہاکہ دھرنے والے سوشل میڈیا کے ذریعے پروپیگنڈا کررہے ہیں۔ لوگوں کے جذبات بھڑکا رہے ہیں۔ ایسا تاثر دیا جارہاہے کہ خدانخواستہ قانون پر کوئی زد پڑی ہے یا قانون میں کوئی کمی کی گئی ہے ۔انہوں نے کہاکہ اب ختم نبوت کے حوالے سے قانون مزید سخت اورمزید موثر ہوگیا۔ لوگوں کے جذبات کو بھڑکانہ مناسب نہیں۔