سعودی شاہی خاندان نے ولی عہدی کی فہرست میں تبدیلی پرغورشروع کردیا

سعودی شاہی خاندان نے ولی عہدی کی فہرست میں تبدیلی پرغورشروع کردیا
image by facebook

ریاض: سعودی شاہی خاندان کے اراکین نے مملکت کے تخت کے آئندہ امیدوار کے طور پر ولی عہد محمد بن سلمان کے بجائے شہزادہ احمد کا نام لینا شروع کردیا ہے۔


برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق شاہی خاندان کے قریبی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ کئی ارکان اب محمد بن سلمان کو ولی عہد برقرار رکھنے کے حق میں نہیں ہیں اور انہوں نے آئندہ بادشاہ کے لیے 76 سالہ احمد بن عبدالعزیز کا نام لینا شروع کردیا ہے۔

احمد بن عبد العزیز ، موجودہ شاہ سلمان کے واحد زندہ حقیقی بھائی ہیں اور وہ گزشتہ چالیس سے نائب وزیرداخلہ کے منصب پر فائز ہیں اور انہیں ایک موضوع امید وار کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سینئر امریکی حکام نے بھی حالیہ دنوں میں سعودی مشیروں کو باور کرایا ہے کہ وہ بطور فرما ن روائے مملکت شہزادہ احمد بن عبد العزیز کی حمایت کریں گے۔

خیال رہے کہ جمال خاشقجی کے قتل کے بعد سے سعودی شاہ سلمان اور ان کے ولی عہد محمد بن سلمان بے پناہ دباؤ کا شکار ہیں تاہم وہ اس معاملے کو مسلسل اپنی مملکت کا داخلی معاملہ قرار دے کر عالمی دباؤ کم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز ایک بیان میں کہا تھا کہ محمد بن سلمان ممکنہ طور پر صحافی جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث ہوسکتے ہیں۔

ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ آل سعود کی طاقت ور شاخوں میں سے درجنوں شہزادے اور ان کے کزن ولی عہد ی تبدیلی کے حق میں ہیں ،تاہم وہ اس وقت تک کوئی ردعمل نہیں دیں گے جب تک 82 سالہ شاہ سلمان زندہ ہیں۔

کہا جارہا ہے کہ ولی عہدی کی لائن میں تبدیلی کے خواہش مند شہزادے جانتے ہیں کہ شاہ سلمان کبھی بھی اپنے چہیتے بیٹے کے خلاف ایسے کسی عمل کی حمایت نہیں کریں گے ۔ لہذا خاندان کے ارکان آپس میں مشاورت کررہے ہیں کہ شاہ سلمان کے انتقال کے بعد محمد بن سلمان کے بجائے ان کے چچا احمد بن عبدالعزیز کو تخت نشین کردیا جائے۔

واضح رہے کہ سعودی حکومت نے صحافی کے سعودی قونصل خانے میں قتل کی تصدیق کی ہے اور 18 سعودی شہریوں کو حراست میں لینے اور انٹیلی جنس کے 4 افسران کو معطل کرنے جیسے اقدامات بھی کیے ہیں لیکن ترکی اور دنیا بھر کی جانب سے بار بار مطالبے کے باوجود صحافی کی لاش سے متعلق تاحال کوئی معلومات فراہم نہیں کیں۔

قبل ازیں ترک صدر نے واشنگٹن پوسٹ میں اپنے کالم میں لکھا تھا کہ صحافی کے قتل کا حکم سعودی اعلیٰ قیادت نے دیا تھا، ترک صدر کے مشیر یاسین اکتے نے دعویٰ کیا تھا کہ سعودی صحافی خاشقجی کی لاش کے ٹکڑے کر کے تیزاب میں تحلیل کردیے گئے۔

یاد رہے کہ سعودی عرب کے محکمہ پبلک پراسیکیوشن نے ترکی کے شہر استنبول میں سعودی قونصل خانے میں جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث پانچ افراد کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔پبلک پراسیکیوشن کا کہنا ہے کہ ان پانچ افراد نے جمال خاشقجی کے قتل کا اعتراف کیا ہے۔

دوسری جانب ترکی جس کی حدود میں قائم سعودی سفارت خانے میں جمال خاشقجی کا قتل ہوا، بضد ہے کہ اس قتل میں محمد بن سلمان براہ راست ملوث ہیں اور ان کے حکم پر ہی صحافی کو قتل کیا گیا۔ قتل کے بعد کام انجام دینے والوں نے ولی عہد کو اس کی رپورٹ بھی کی۔