سعودی عرب نے صحافی جمال خشوگی کی موت کی تصدیق کردی

سعودی عرب نے صحافی جمال خشوگی کی موت کی تصدیق کردی

ریاض: سعودی عرب نے صحافی جمال خشوگی کی موت کی تصدیق کردی ۔جمالی خشوگی استنبول کے سعودی قونصل خانے کے اندر موجود افراد سے لڑائی کے دوران مارے گئے۔


سعودی پراسیکیوٹر نے کہا ہے کہ سعودی صحافی جمال خشوگی اپنی ترک منگیتر سے شادی کے لیے 2 اکتوبر کو استنبول کے سعودی قونصلیٹ پہنچے تھے۔وہاں موجود افراد سے ان کی لڑائی ہوئی جس کانتیجہ خشوگی کی موت کی صورت میں نکلا اور ان افراد نے موت پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی ۔ تاہم لڑائی کاسبب نہیں بتایا گیا اور یہ بھی واضح نہیں کیاگیاکہ میت کہا ہے۔ سعودی عرب کو صحافی جمال خشوگی کی موت پر بے حد افسوس ہے تاہم اس سلسلے میں 18 سعودی شہری گرفتار کرلیے گئے ہیں اور واقعے کی تحقیقات جاری ہے جب کہ 2 سعودی مشیروں سمیت 5 اعلی عہدے داروں کو بھی فارغ کر دیا گیا ہے۔

ادھرسعودی حکام کی جانب سے شاہی فرمان جاری ہوا ہے جس کے مطابق سعودی جنرل انٹیلی جنس کے نائب صدر احمد العسیری کو برطرف کیا گیا ہے جو کہ ولی عہد محمد بن سلمان کے سینئر مشیر بھی تھے، اس کے علاوہ انٹیلی جنس شعبہ سیکیورٹی کے سربراہ جنرل رشاد بن حامد، انٹیلی جنس کے نائب سربراہ یومن ریسورسز جنرل عبداللہ، نائب سربراہ برائے خفیہ معلومات جنرل محمد بن صالح اور سعودی شاہی عدالت کا مشیر سعود قحطانی کو بھی عہدے سے فارغ کردیا گیاہے۔ 

دوسریجانب جمال خشوگی کی موت کی تصدیق کی خبر کے بعد ترک حکام کی جانب سے بیان جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ صحافی جمال خشوگی کی موت سے متعلق آڈیو ریکارڈنگ موجود ہے، آڈیو ریکارڈنگ ابھی امریکا کونہیں دی، تحقیقات کا پوری دنیا کو بتایا جائے گا، ہوسکتا ہے لاش قریبی جنگل یا کھیتوں میں ٹھکانے لگائی گئی۔ترک حکام نے بتایا کہ جمال خشوگی 2 اکتوبر کو استنبول میں سعودی قونصل خانے گئے اور پھر لاپتہ ہوگئے

 سعودی صحافی جمال خشوگی کی موت کی خبر پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جمال خشوگی کی موت کی تصدیق پریشان کن ہے، جمال کی موت پر شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ نے کہا کہ موت کے ذمہ داروں کے مکمل احتساب کی ضرورت ہے۔