بھارتی فوج نے غلطی سے علاقے میں داخل ہونے والا چینی فوجی پکڑ لیا

بھارتی فوج نے غلطی سے علاقے میں داخل ہونے والا چینی فوجی پکڑ لیا
file photo

نیو دہلی: بھارتی فوج نے غلطی سے علاقے میں داخل ہونے والا چینی فوجی پکڑ لیا، چینی فوجی راستہ بھولنے کے باعث بھارت حدود میں داخل ہو گیا تھا۔

چینی میڈیا کے مطابق چینی فوجی کی رہائی سے متعلق بھارت کے ساتھ معاملہ طے پا گیا، بھارت جلد ہی گرفتار فوجی کو چین کے حوالے کر دے گا، معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کیا جائے گا۔

ادھر عالمی ادارے کے تازہ ترین سروے میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت دفاع اور معیشت کی کمزوری کے باعث ایشیا پیسفک کی بڑی طاقتوں کی صف سے باہر ہوگیا۔

غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق آسٹریلیا میں قائم بین الاقوامی ادارے لوئی انسٹی ٹیوٹ نے 2020 کے لیے ایشیا کا پاؤر انڈیکس جاری کیا ہے جس میں بھارت گزشتہ برس کے مقابلے میں مطلوبہ حدف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔

چین کے ساتھ بھارت کی سرحدی لڑائی اور کورونا وائرس کے حملے نے خطے میں بھارت کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ چین کو ہرانے کے چکر میں مودی سرکار نے کورونا کو شکست دینے کی بجائے بڑی رقم جدید ہتھیاریوں کی خرید و فروخت پر خرچ کی۔ جس کے نتیجہ میں بھارت نہ چین سے جیت سکا نہ کورونا پر قابو پاسکا۔

ادارے کا کہنا ہے کہ آبادی کے اعتبار سے خطے کا دوسرا بڑا ملک اب ایشیا پیسفک میں درمیانے درجے کی طاقت بن چکا ہے ۔ کورونا وائرس کے باعث خطے میں سب سے زیادہ بھارت کی ترقی کرنے کی صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق خطے میں آبادی و دیگر حالات کے اعتبار سے بھارت چین کا مقابلہ کرسکتا ہے لیکن بدلتی صورت حال میں بھارت کا چین کے قریب آنا ناممکن ہے۔ اس سے قبل یہ پیش گوئی کی گئی تھی کہ آئندہ ایک دہائی میں بھارت چین کی معاشی ترقی کے پچاس فیصد کے برابر آجائے گا تاہم موجودہ حالات میں اب چالیس فی صد کی حد عبور کرنا بھی مشکل نظر آتا ہے۔

لوئی انسٹی ٹیوٹ کے مطابق بھارت نے اپنے سفارتی اثر و رسوخ میں ضرور اضافہ کیا ہے تاہم دفاعی نیٹ ورک اور اقتصادی تعلقات کے دو ایسے پیمانے ہیں جن پر بھارت کی کارکردگی نیچے آئی ہے۔

انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ میں خطے پر بھارتی اثر رسوخ میں بھی کمی کی نشاندہی کی گئی ہے۔ جس کے مطابق ماضی میں بھارت کے زیر اثر نیپال میں اب چین اس سے کئی گنا زیادہ بارسوخ ہوچکا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت کو اپنے حالات کا جائزہ لینا چاہتا ہے اور اگر اسے سپر پاور بننے کی خواہش ہے تو دہائیوں تک محنت کرنے کے بعد بھی یہ ہدف حاصل کرنا سہل نہیں ہوگا۔