رینٹل پاور کیس:حکومت پاکستان کو 74 ارب روپے کا جرمانہ ادا کرنے کا حکم

 رینٹل پاور کیس:حکومت پاکستان کو 74 ارب روپے کا جرمانہ ادا کرنے کا حکم

اسلام آباد: مالی تنازعات کے حل کیلئے عالمی سطح پر کام کرنے والی عدالت انٹرنیشنل سنٹر فار سیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹز (آئی سی ایس آئی ڈی)نے ترک کمپنی کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے حکومت پاکستان کو 74 ارب روپے کا جرمانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔


تفصیلات کے مطابق حکومت پاکستان اور کارکے کمپنی کے درمیان کیس کا فیصلہ مارچ 2016 میں سنایا گیا تھا لیکن آئی سی ایس آئی ڈی نے اب 22 اگست کو حکومت پاکستان کو 74 ارب روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے 2012 میں ریٹل پاور کیس کا فیصلہ سنائے جانے کے بعد کارکے کمپنی نے فروری 2013 میں آئی سی ایس آئی ڈی میں پاکستان کے خلاف ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا تھا۔ کمپنی کو پاکستان میں بجلی کے بد ترین بحران سے نمٹنے کیلئے 560 ملین ڈالر کا پراجیکٹ دیا گیا تھا جس کے خلاف پی پی کے رہنما مخدوم فیصل صالح حیات اور موجودہ وزیر خارجہ خواجہ آصف نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

2012-13 میں نے معاملات طے کرنے کیلئے کوششیں کی لیکن اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری نے انہیں ایسا کرنے سے باز رہنے اور نیب کو سخت کارروائی کرنے کا حکم دیا۔ احتساب عدالتیں اب بھی سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کے خلاف رینٹل پاور ریفرنسز کی سماعت کر رہی ہیں۔