اسلام آباد: وزیرخزانہ اسحاق ڈار کےتمام اثاثےمنجمد کر دیے گئے ہیں ۔  وزیرخزانہ کی منقولہ اورغیرمنقولہ جائیداد بھی قرق کرلی گئی۔ اسحاق ڈار کی ملک بھر میں جائیداد قرقی کی کارروائی شروع ہو گئی ہے ۔
تفصیلات کے مطابق نیب نے رقوم کی ٹرانسفر روکنے کےلیے بینکوں کو خط لکھ دیا ہے ۔ نیب نے تمام بینکوں، ڈویلپمنٹ اتھارٹیز، کمشنرزکوخط ارسال کردیا ہے ۔  اسحاق ڈار کے نام جائیداد کی ٹرانسفر روکنےکےلیے ڈپٹی کمشنرز کو بھی خط لکھ دیا ہے ۔محکمہ ایکسائز کو بھی خط لکھ دیا ہے کہ  اسحاق ڈار کے نام کی گاڑیوں کی ٹرانسفر   بھی نہ کی جائی ۔اثاثے ٹرانسفر کرنے والوں کو 3 سال کی سزا ہو سکتی ہے ۔

دوسری جانب خبریں ہیں کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے گھر قومی احتساب بیورو لاہور کے تفتیشی افسر نادر حسین کی سربراہی میں ان کی ٹیم نے چھاپہ ماراکر گھر کی تلاشی لی ہے ۔ تلاشی کے دوران انکے ملازمین سے پوچھ گچھ بھی کی گئی۔ جس کے بعد ملازمین نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ اسحاق ڈار گھر پر موجود نہیں ہیں۔ 

جبکہ نیب کا کہنا ہے کہ اسحاق ڈار کے گھر چھاپا نہیں مارا گیا  بلکہ ان کے گھر عدالتی نوٹس  دینے گئے تھے ۔ترجمان نیب کے مطابق  یب کی ٹیم نےقانون کےتحت کام کیاہے ساتھ ہی انہوں نےکہا کہ  میڈیا سے گزارش ہے کہ غیر مصدقہ خبروں سے گریز کیا جائے ۔

یاد رہے کہ نیب کی جانب سے آمدنی سے زائد اثاثے رکھنے کے ریفرنس میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو آج احتساب عدالت میں پیش ہونا تھا تاہم عدم پیشی پر عدالت نے ان کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔عدالت نے اسحاق ڈار کو 10 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 25 ستمبر تک کے لئے ملتوی کردی اور انہیں اگلی پیشی پر حاضری یقینی بنانے کا حکم دیا گیا ہے۔