امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انھوں نے ایران سے 2015ءمیں طے شدہ جوہری معاہدے کے بارے میں ایک فیصلہ کر لیا ہے اور وہ یہ کہ آیا امریکا اس معاہدے کا حصہ رہے گا یا اس سے نکل جائے گا۔
اگر ڈونلڈ ٹرمپ اکتوبر میں اس امر کی تصدیق نہیں کرتے کہ ایران معاہدے کی پاسداری کررہا ہے تو پھر کانگریس ساٹھ روز میں ایران کے خلاف جوہری معاہدے کے نتیجے میں اٹھائی گئی پابندیوں کو دوبارہ نافذ کرنے کے بارے میں کوئی فیصلہ کرے گی۔ ایران کے ایک سینیئر عہدہ دار کا اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا ہے کہ اگر امریکی صدر جوہری معاہدے کو ختم کر دیتے ہیں تو ان کا ملک کسی بھی ممکنہ منظرنامے کے لیے تیار ہے۔ان میں ایک اقدام یہ ہوگا کہ ایران معاہدے کی شرائط کے مطابق معطل یا منجمد کیے گئے جوہری کام کو فوری طور پر بحال کردے گا۔
واضح رہے کہ سابق امریکی صدر براک اوباما کی انتظامیہ نے جولائی 2015ءمیں سلامتی کونسل کے چار دوسرے مستقل رکن ممالک اور جرمنی کے ساتھ مل کر ایران سے اس جوہری معاہدے پر دستخط کیے تھے۔اس کے تحت ایران نے اپنے حساس جوہری کام کو منجمد کردیا تھا اور اس کے بدلے میں امریکا ،یورپی یونین اور اقوام متحدہ نے اس پر عاید بیشتر اقتصادی پابندیاں بھی ختم کردی تھیں۔