جرمن بچے سال بھر کی چینی 7 ماہ میں کھا گئے، ماہرین پریشان

جرمن بچے سال بھر کی چینی 7 ماہ میں کھا گئے، ماہرین پریشان

برلن :جرمن بچے اتنا میٹھا کھاتے ہیں کہ وہ سال رواں کے دوران اوسط فی کس استعمال کے لیے تجویز کردہ چینی سات ماہ میں ہی کھا گئے۔ ماہرین کے مطابق اس کی وجہ کاروباری کمپنیوں کی طرف سے شکر سے بھرپور اشیائے خوراک کی مارکیٹنگ ہے۔


برلن میں قائم صارفین کی کھانے پینے کی عادات سے متعلق غیر سرکاری تنظیم فوڈ واچ کے مطابق جرمن بچوں نے اس سال اتنی چینی پہلے سات ماہ میں ہی استعمال کر لی، جتنی عالمی ادارہ صحت کی رہنما تجاویز کے مطابق انہیں بارہ ماہ میں استعمال کرنا تھی۔

اس تنظیم کی طرف سے غذائی امور کی جرمن فیڈریشن اور جرمن ذیابیطس سوسائٹی کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی کہا گیا ہے کہ جرمنی میں، جو یورپی یونین کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے، تین سے لے کر 18 سال تک کی عمر کے نابالغ شہری اپنے لیے صحت مند حد سے 63 فیصد زیادہ چینی استعمال کر رہے ہیں۔

فوڈ واچ کے مطابق جرمن معاشرے میں روایتی طور پر میٹھا کھانے کا رجحان اتنا زیادہ ہے کہ صرف بچے ہی نہیں بلکہ بالغ خواتین و حضرات بھی ہر سال اپنے لیے صحت مند حد سے کہیں زیادہ مقدار میں شکر استعمال کرتے ہیں۔

فوڈ واچ کے مطابق خواتین یہی حد آٹھ اکتوبر کو عبور کر جائیں گی۔ماہرین کے مطابق زیادہ شکر کا استعمال ان بچوں کے موٹاپے کی شکل میں نکلتا ہے اور موٹاپا خود کوئی بیماری نہ ہونے کے باوجود کئی طرح کی بیماریوں کی وجہ بنتا ہے۔